Saturday, December 12, 2009

نیپیئر ٹیسٹ : نیوزی لینڈ کے 6 وکٹوں پر 346 رنز‘ پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل کرلی

نیپیئر (اے پی پی) ڈینیل ویٹوری کی شاندار بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کرکٹ میچ کی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل کر لی، ڈینیل ویٹوری 100 اور ڈیرل ٹفی 13 رنز پرکھیل رہے ہیں،پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا نے 4 کھلاڑیوں کو آ¶ٹ کیا،برینڈن میکولم 89 اور ٹم میکنٹوش 74 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بلے باز رہے، ڈینیل ویٹوری نے اپنے کیریئر کی پانچویں سینچری مکمل کر لی،دوسر ے روز ڈینیل ویٹوری اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میکولم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 176 قیمتی رنز بنے۔ ہفتہ کو جب نیوزی لینڈ نے پنی پہلی اننگز 47 رنز بغیر کسی نقصان پر دوبارہ شروع کی تو ٹم میکنٹوش 31 اور واٹلنگ 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔ دونوں کھلاڑیوں کے مابین پہلی وکٹ کی شراکت میں 60رنز بنے۔ واٹلنگ نیوزی لینڈ کے پہلے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 18 رنز بنا کر محمد آصف کی گیند پر عمر اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہو گئے۔گپٹل دوسرے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 13 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آ¶ٹ ہو گئے۔ روز ٹیلر کیویز ٹیم کے تیسرے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 21 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر محمد یوسف کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ اس موقع پر میکنٹوش 74 رنز بنانے کے بعد دانش کنیریا کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔اس وقت نیوزی لینڈ کا مجموعی سکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 136 رنز تھا۔ ڈینیئل فلائن پانچویں آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 5 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ اس کے بعد کپتان ڈینیل ویٹوری اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میکولم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 176 قیمتی رنز بنے،اس موقع پر میکولم 89 رنز بنا کر عمر گل کی گیند پر فیصل اقبال کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ یوں پاکستان کے خلاف اپنی پہلی سینچری مکمل کرنے میں ناکام رہے۔کپتان ڈینیئل ویٹوری نے ایک اینڈ پر عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پانچویں سینچری مکمل کی۔ دوسرے روز جب میچ ختم ہوا تو نیوزی لینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا لئے تھے اور اس پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل تھی۔ پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا نے 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ محمد آصف اور عمر گل نے ایک ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا
read more...

زرداری اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں: لاس اینجلس ٹائم

نیویارک (نمائندہ خصوصی) لاس اینجلس ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سب سے مفید اتحادی اور افغان جنگ میں اسکے اہم شراکت دار سمجھے جانے والے صدر آصف زرداری ملک میں اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک رپورٹ میں اخبار نے کہا ہے کہ 15ماہ کے دور صدارت کے دوران صدر آصف زرداری کو فوج‘ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کے نقادوں کی طرف سے شدید دبائو نے کمزور کر دیا۔ اخبار نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر صدر زرداری خارجہ اور دفاعی امور پر کنٹرول میں ناکام ہو گئے تو اس صورت میں فوج کی جیت کا امکان ہے۔

link...

read more...

شمعیں نہ جلاﺅ.... پھول نہ چڑھاﺅ....؟

بشری رحمن
لوگو! کیا کر رہے ہو....؟
شمعیں نہ جلاﺅ.... ملبے کے ڈھیر کے اوپر پھول مت چڑھاﺅ....
جو ہو سکے تو بوٹی بوٹی چن کے لاﺅ.... سانس سانس اکٹھی کرو.... قطرہ قطرہ خون جمع کرو اور چاند سے پیکر بنا دو۔ بیٹے بنا دو۔ مائیں بنا دو‘ باپ بنا دو‘ جگر گوشہ بنا دو.... جو شعلوں میں بھسم ہوئے۔ بم کا ایندھن بنے۔ تاریک راہوں میں مارے گئے .... جنہوں نے قیامت سے پہلے قیامت دیکھ لی۔ جو گھر سے خوشیاں خریدنے نکلے تھے۔ جو مسکراہٹیں خریدنے آئے تھے.... جنہوں نے اپنی ہتھیلیوں پر خواب سجائے تھے۔ جنہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ پلٹ کر گھر نہ جا سکیں گے اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے انتظار میں ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ بیویاں راہ دیکھتی رہیں گی۔ مائیں ہواﺅں کے پیچھے دوڑتی رہیں گی‘ بہنیں بھیا بھیا پکارتی رہیں گی۔ معصوم بچے ماں کو آوازیں دیتے رہیں گے.... ایک رات میں اتنے گھر برباد ہو گئے۔ اتنی مانگیں اجڑ گئیں.... اتنی گودیاں خالی ہو گئیں.... جن لوگوں نے پیسہ پیسہ جوڑ کے .... خواہشوں پر قدغن لگا کے اپنے اپنے کاروبار بڑھائے دکانیں سجائیں‘ بال بچوں کے لئے محنت کی .... ان کا کاروبار راکھ ہوا۔ ارادے جل گئے .... مسافتیں منہ کے بل گر گئیں....
ایک پوری بستی اجڑ گئی.... جسے مون مارکیٹ کہتے تھے۔ چاند کو گرہن لگ گیا۔
ہاں مارکیٹیں بستی کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بہت سی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں جو شہروں کو شہر بناتی ہیں اور خواہشوں کو زندہ رکھتی ہیں....
پل بھر میں سب جل گیا....
اف خدایا!
یہ پاکستان کس دوراہے پر آ گیا....
کن ہاتھوں میں آ گیا.... کن اعمال کی سزا ہے.... مگر معصوموں اور بے گناہوں کو کیوں.... انہیں کب سزا ملے گی جو سرکش ہوئے پھرتے ہیں۔ تیری دنیا کو بدصورت سے بدصورت ترین بنائے چلے جاتے ہیں۔ جو برائی کی طرح پھیل رہے ہیں اور دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ جو ہمارے شہر اجاڑ رہے ہیں ہماری گلیاں ویران کر رہے ہیں ہمارے گھروں میں ماتم برپا کئے ہوئے ہیں.... یہ ایسا سانحہ نہیں کہ جسے کوئی بھول جائے....
یا کسی کی آنکھ تر نہ ہو....
زندگی دنیا کے ہر خزانے سے قیمتی ہوتی ہے۔ زندگی کا کوئی مول کوئی عوضانہ کوئی مداوا نہیں ہوتا....
لوگو! کیا کر رہے ہو۔ شمعیں نہ جلاﺅ ‘ پھول نہ بکھیرو....
ملبے کے اندر سے ابھی تک سسکیوں کی آوازیں آ رہی ہیں.... بجلی کی تاروں پر ابھی تک کوئی دل اٹکا ہے دکان کی چھت پر کسی ماں کی آس لٹکی ہوئی ہے....
ہر وقت کا مارا دل کسی معجزے کا منتظر ہے.... کہ اچانک اس کا پیارا اس کی دلاری سامنے آ جائے .... دل گرفتہ مائیں بہنیں بیٹیاں.... ننگے سر ننگے پاﺅں علی الصبح جلی بھنی عمارتوں کو دیکھنے آتی ہیں .... دل میں ایک آس بھی لاتی ہیں .... ممکن ہے .... ہو سکتا ہے .... ادھر سے یا ادھر سے ان کا پیارا ہنستا ہوا آ کر ان سے لپٹ جائے.... وہ اسے سینے سے لگا لیں کبھی نہ جانے دیں .... خدایا.... خدایا ....
رائیگاں خون شہیداں نہیں دیکھا جاتا!
جب حادثہ ہو جاتا ہے۔ جب تباہی مچ جاتی ہے جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ تب سب آ جاتے ہیں.... ایسا کیوں ہوتا ہے .... ارباب اقتدار جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر لہو اور آگ کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ عندیے بھی ملتے رہتے ہیں۔ دھمکیاں اور ڈراوے بھی آتے رہتے ہیں۔ ذریعہ مواصلات و اطلاعات پہلے سے زیادہ ہیں۔ پھر یہ غفلت کیسے ہو گئی اگر دہشت گرد ہر حفاظتی تدبیر سے بچ کر نکل جانے کی تکنیک وضع کر لیتے ہیں تو ہمارے حفاظتی ادارے جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں چھان بین کے لئے نت نئے طریقے کیوں نہیں وضع کر سکتے۔ بڑی مارکیٹوں اور پبلک کی جگہوں پر ہمہ وقت گشتی محاظتی دستے کیوں نہیں ہوتے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس جاسوسی عملہ اندر کیوں نہیں چھوڑا جاتا ایک لوہے کا دروازہ ہر جگہ لگا کے پولیس مطمئن ہو جاتی ہے کیا تخریب کار اس دروازے کو پار کرنے کا طریقہ وضع نہیں کر سکتے....
کیا پاکستان خدانخواستہ پل صراط کے اوپر کھڑا رہے گا۔
چاروں طرف دوست نما دشمن ہیں جو پاکستان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے۔ کوئی شہر محفوظ نہیں۔ اسلام آباد جو ہمارا دارالخلافہ ہے۔ اس کے اندر اتنے بیریئر ہیں کہ جیل خانے کا احساس ہوتا ہے دشمن پاکستان کے اعصاب شل کرنا چاہتا ہے۔ بے گناہ شہریوں کو مار کے شہروں کے اندر مایوسی اور بددلی پھیلانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سماجی زندگی کو مفلوج کر کے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنانا چاہتا ہے۔ معیشت پر کاری ضرب لگا کر لوگوں میں وحشیانہ جذبات ابھارنا چاہتا ہے دشمن ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت بڑھ رہا ہے۔ ہماری حکومتوں کے پاس کیا کیا تدابیر ہیں ابھی سامنے نہیں آئیں۔ ہماری حکومت تو کھل کر دشمن کا نام بھی نہیں لے رہی۔
کم از کم تباہ حال لوگوں کی خبر تو لے ....
جتنی جلدی تباہی ہوتی ہے اتنی جلدی تلافی ممکن تو نہیں ہو سکتی مگر اتنی جلدی شروعات تو ہو سکتی ہے۔ میڈیا پر بہت سی شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں کمیٹیاں بن جائیں تو معاملات لٹک جاتے ہیں آج تک پاکستان میں کوئی معاملہ کمیٹیوں کے ذریعے حل نہیں ہوا.... جو نقصان ہوا وہ سب کو نظر آ رہا ہے۔ یہ اختیار چھوٹے بڑے دکانداروں اور چھابڑی فروشوں کو دیا جاتا تو وہ اپنے نقصان کا تخمینہ پیش کر دیتے۔ ایسی قیامت صغریٰ دیکھ لینے کے بعد کوئی بھی غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا۔ جب جانتا ہے کہ چشم زون سب جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ اصولاًٰ تو حکومت پنجاب کو اس مارکیٹ کی تعمیر نو فوراً شروع کر دینی چاہئے بلکہ اب یہ مارکیٹ جدید تعمیراتی اصولوں کے مطابق بنائی جائے۔ جس کا جو کلیم ہو اس کے پیش نظر انہیں دکانیں تعمیر کر کے دینی چاہئیں۔ اس کے بعد جو سرمایا ان کا ضائع ہوا۔ انہیں مہیا کیا جانا چاہئے۔ ہر صورت میں مارکیٹ کو دوبارہ تعمیر کرنا حکومت ہی کا فرض ہے جتنی تاخیر ہو گی زخم اتنے گہرے ہوں گے۔
ایک افسوسناک صورت حال جو سامنے آئی کہ ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں مناسب چادروں کا بندوبست نہیں تھا۔ خصوصاً عورتوں کی لاشیں ڈھانپے بغیر رکھ دی گئیں۔ کیا ہسپتال کی انتظامیہ اتنی گئی گزری ہے کہ چادروں کا بندوبست نہ کر سکی۔ یہ لوگ شہریوں کو اپیل کر دیتے تو وہاں چادروں اور کپڑوں کے ڈھیر لگ جاتے یہ درست ہے کہ حادثہ اچانک ہو تو اوسان خطا ہو جاتے ہیں مگر اتنے بڑے اور معروف ہسپتالی عملے کو ہر حادثے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ اتنا بڑا عملہ سارا سال تنخواہیں کھاتا ہے۔ کیا کسی میں بھی ایسی خدا خوفی نہیں تھی جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو بھی عزت سے دفنانا فرض ہے.... ہسپتالوں میں یہ غفلت کیوں برتی گئی.... ہر سال بعض ہسپتالوں میں ادویات کے غبن کی خبریں نکلتی رہتی ہیں ہسپتالوں کو زائد فنڈ دئیے جاتے ہیں .... پھر بھی ....
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
دکھ شمار کریں .... تو ان گنت نکل آئیں گے .... حادثے سنبھل جانے کا اشارہ دیتے ہیں ان حالات میں چوکس ہو جانے کی ضرورت ہے.... ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے.... اپنا اپنا فرض پہچاننے کی ضرورت ہے.... ورنہ.... پشاور‘ لاہور‘ ملتان اور ہر جگہ برہنہ لاشیں اور بکھرے ہوئے اعضاسسک سسک کر ہی کہتے رہیں گے....
شمعیں نہ جلاﺅ....
پھول نہ چڑھاﺅ.... احساس جگاﺅ‘ آواز بن جاﺅ ....
وگرنہ
جلا ہے جسم تو پھر دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب خاک جستجو کیا ہے
read more...

پاکستان میرے دل کے قریب ہے‘ جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے مدد جاری رکھیں گے: ہلیری

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + آئی این پی) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ہے، القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستانی حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے تاہم اعتماد کا فقدان اس تعاون کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان‘ افغانستان سرحد پر قائم دہشت گردی کے مراکز سے دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن میں امریکن پاکستانی فائونڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار اور وسیع مفاد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے شدت پسندوں کیخلاف تو کارروائی کر رہی ہے تاہم افغانستان میں بیالیس ممالک کی افواج پر حملے کرنے والوں کیخلاف کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام ضروری ہے‘ پاکستان طویل مدت ترقی کا مستحق اور خواہشمند ہے ہم جمہوری اداروں کی مضبوطی اور انتہاپسند گروپوں کو شکست دینے کے لئے سکیورٹی بہتر بنانے میں حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ گروپ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء اور اس سے بھی آگے بڑھ کر خطرہ ہے۔ پاک فوج نے طالبان کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امریکہ نے بھی مدد میں اضافہ کیا ہے لیکن کچھ مزید دہشت گرد گروپوں کے پاکستان میں کیمپ موجود ہیں جہاں سے وہ عالمی سطح پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،دنیا کی 42 اقوام ان لوگوں کے خلاف افغانستان میں لڑ رہی ہیں۔ توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے بھی ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘ امریکہ اہم پاور سٹیشنوں کو بہتر بنانے، زرعی ٹیوب ویلوں کے قیام اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی غیر اعلانیہ سفیر ہونے کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دورکرنے اور انہیں قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

link...

read more...

وفاقی کابینہ میں جلد تبدیلی متوقع‘ کائرہ کا رحمن ملک کی جگہ لینے کا امکان

اسلام آباد (مقصود ترمذی / دی نیشن رپورٹ) باخبر ذرائع کے مطابق چند روز میں وفاقی کابینہ میں تبدیلی متوقع ہے‘ اس بات کا امکان ہے کہ اس ردوبدل میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ‘ رحمن ملک کی جگہ وزیر داخلہ بنیں گے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ رحمن ملک کو کون سی وزارت دی جائے گی۔ ابھی ردوبدل میں تاخیر صورتحال کی سنگینی کے باعث کی گئی ہے۔ 3 وزرا کے محکموں میں ردوبدل سے اس کا تاہم آغاز ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ یہ سارا عمل اگلے ماہ مکمل ہو جائے گا۔ وزارت اطلاعات کے لئے حکومت شیری رحمن یا فوزیہ وہاب میں سے کسی کا ایک کا انتخاب کرے گی۔ کائرہ کی جگہ چودھری منظور کو گلگت بلتستان کا گورنر بنائے جانے کا امکان ہے‘ تاہم ان کے قریبی ذرائع کے مطابق چودھری منظور نے اس سے معذرت کر لی ہے۔ کوششوں کے باوجود کائرہ اور رحمن ملک سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
read more...

بلیک واٹر کے اہلکار بلوچستان کے شمسی ایئربیس پر بھی تعینات ہیں : امریکی اخبار

لندن (آن لائن +نمائندہ خصوصی) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بدنامِ زمانہ سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کے ساتھ خفیہ معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خفیہ معاہدے کے تحت بلیک واٹر کو پاکستان اور افغانستان میں ڈرون طیاروں میں میزائل لوڈ کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا تاہم سی آئی اے کے ڈائیریکٹر لیون پینٹانے رواں برس کے آغازمیں معاہدہ توڑ کر جاسوس طیاروں پر میزائل لوڈ کرنے کا کام امریکی ملازمین کے سپرد کردیا ہے جس کا اب انکشاف ہوا ہے۔ پاکستانی اور امریکی حکام اگرچہ بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں لیکن برطانوی اخبار نے ایک سابق امریکی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بلیک واٹر اپنی سرگرمیاں ایکس زی سروسز کے نئے نام کیساتھ بلوچستان میں شمسی ائیر بیس سے آپریٹ کرتی رہی ہے۔ اخبار کے مطابق بلیک واٹر کے اہلکار شمسی ائربیس کے اطراف گشت بھی کرتے ہیں تاہم بلیک واٹر کی طرف سے رپورٹ پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ نے بلیک واٹر کیساتھ کئے جانیوالے تمام معاہدوں پر نظرثانی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
read more...

امریکی شہری ڈی پورٹ کردیں‘ پیٹرسن ۔۔۔ پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے تحت فیصلہ ہوگا‘ زرداری

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار+ ایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری سے پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ملاقات کی‘ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں سرگودھا میں پکڑے جانے والے امریکی شہریوں کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے امریکی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کی ۔ذرائع کے مطابق صدر نے امریکی سفیر کو بتایا کہ امریکی شہریوں کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ امریکی سفیر نے صدر کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حال ہی میں راولپنڈی‘ لاہور اور ملتان میں ہونے والے خودکش دھماکوں پر اظہار افسوس کیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے واضح کیا کہ امریکی سفارتی عملے اور شہریوں کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں سفارتی دائرہ کار تک محدود رکھنا ہونگی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے ان سفارتی عملہ کی گاڑیوں کو روک کر چیکنگ کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سرگودھا میں امریکی شہریوں کی گرفتاری پر تشویش سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں ایڈمرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے ملاقات دوطرفہ امور، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون، جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن اور پاکستان امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا‘ ملاقات میں ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے امریکی سفیر کو بتایا کہ گرفتار امریکی باشندوں سے تحقیقاتی ادارے تفتیش کررہے ہیں جن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ صدر زرداری نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ قوانین کا احترام سب پر لازم ہے سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے سفارتی اہلکاروں کو چاہئے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں کیونکہ جو بھی انتظامات کئے گئے ہیں وہ ان کی بہتری اور سکیورٹی کی بناء پر کئے گئے ہیں۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے قوانین کااحترام کرتا ہے‘ سکیورٹی کے حوالے سے جو اقدامات کئے گئے ہیں اس حوالے سے پاکستان کے اداروں کی صلاحیت پر اسے مکمل اعتماد ہے۔ ملاقات میں دو طرفہ معاشی ، تجارتی ودفاعی تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مدد اور وسائل فراہم کرے ، قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زونز کے قیام کے وعدے پورے کئے جائیں جس پر امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہا ہے ہم تمام شعبوں میں پاکستان سے تعاون کو فروغ دیں گے ۔ بلوچستان کے عمائدین نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ ملاقات میں بلوچستان پیکج‘ این ایف سی ایوارڈ‘ صوبے کی ترقی‘ امن و امان اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچ عمائدین نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری اور جمہوری حکومت کیخلاف کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدر نے کہاکہ فیڈریشن کے فریم ورک میں صوبے میں مصالحت کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ملاقات کرنے والے وفد میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ‘ سردار محمد ایاز خان جوگیزئی ،اکرم شاہ‘ سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل اور ڈاکٹر بابر اعوان شامل تھے۔ صدر نے کہاکہ پیپلزپارٹی بلوچستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی کا ازالہ کر رہی ہے‘ حکومت وفاق اور اکائیوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔ بلوچستان میں چار نئے ڈیمز تعمیر ہونگے‘ بلوچ رہنما صوبے کے معاملات کے حل کے لئے آگے آئیں‘ صوبوں اور وفاق میں ہم آہنگی پیدا کرنا پیپلزپارٹی کی سب سے کامیابی ہے‘ ماضی میں نظرانداز کئے گئے صوبوں کے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔ اس موقع پر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر سے وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے اپنی نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ملاقات کی۔ صدر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ممکنہ اقدامات کریں۔ صدر نے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث مریضوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے کہاکہ مرض کی بروقت اور درست تشخیص کرکے بہت سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے یہ ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقدس پیشہ کے تقدس کو مدنظر رکھ کر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیں‘ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے وزارت صحت جامع حکمت عملی ترتیب دے۔

read more...

اب اورکزئی ایجنسی میں آپریشن زیرغور ہے‘ شدت پسند فرار ہو کر جہاں جائیں گے پیچھا کریں گے : وزیراعظم گیلانی


لاہور (نیوز رپورٹر + خبر نگار خصوصی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت موجود ہے۔ جنوبی وزیرستان آپریشن ختم ہو چکا ہے۔ اب اورکزئی ایجنسی میں آپریشن کی بات کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں عام معافی زیر غور ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی سی یو کے 8ویں کانووکیشن کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اتنا مضبوط بنایا جائیگا کہ کوئی آئین میں بگاڑ پیدا نہ کر سکے۔ 17ویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عمل جمہوری قوتیں ہی کرسکتی ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم سے اگلے فورم پر بات کرونگا۔ مالاکنڈ سوات آپریشن کے بعد وزیرستان آپریشن کامیاب ہوا ہے اور مالاکنڈ سمیت وزیرستان میں امن قائم ہو گیا ہے۔ بلوچستان میں 89 لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے راستے بلوچ لیڈروں کیلئے کھلے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں غیر ملکیوں سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ سکیورٹی اداروں کو بروقت معلومات دینے کیلئے ہدایات دی گئی ہیں۔ حکومت کی مفاہمتی پالیسیوں کے باعث این ایف سی کا اجراءہوا ہے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کو تیزی سے تنزلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر قوم کے متحد ہونے پر انہیں ہر محاذ پر شکست ہوئی۔ حکومت قیام امن کیلئے پرعزم ہے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کی ترقی اور روزگار کیلئے کام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا لبرل چہرہ دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ آج ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جن سے کوئی آمرانہ حکومت نہیں‘ صرف جمہوری حکومت ہی نبردآزما ہو سکتی ہے۔ آج وفاق صرف 1973ءکے آئین کی بدولت مستحکم ہے۔ 1973ءکے آئین کو ایک آمر نے مسخ کیا تھا۔ قوم جلد اسکی اصل شکل میں بحالی کی خوشخبری سنے گی۔ آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے باعث اب کوئی بلوچ نوجوان بیروزگار نہیں رہے گا۔ قبل ازیں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں پنجاب کابینہ میں توسیع کا فیصلہ‘ بجلی کے بحران پر جلد قابو پانے اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے پر اتفاق ہوا۔ وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کی کامیابی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کو وفاقی کابینہ میں شمولیت کی ایک بار پھر دعوت دی گئی۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے گذشتہ صبح 9 بجے ڈیفنس کے وائی بلاک میں یوسف رضا گیلانی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کے ساتھ ناشتہ کیا۔ وزیراعظم نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے حکومت پنجاب کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر پنجاب نے بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا ہے جو قابل ستائش ہے۔ محرم الحرام میں امن و امان یقینی بنایا جائے اور شہباز شریف جہاں ضروری سمجھیں رینجرز اور پاک فوج کی مدد حاصل کریں۔ وفاقی حکومت پنجاب حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرےگی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو وفاقی وزراءکے محکموں میں ردوبدل اور وفاقی سیکرٹریوں کی تبدیلی کے حوالے سے آگاہ کیا اور امید ظاہر کی کہ وزراءکے قلمدان تبدیل ہونے سے محکموں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو جن وفاقی وزراءسے شکایات ہیں ان کا ازالہ بھی کیا جائےگا۔ وفاق صوبوں کو زیادہ سے زیادہ مالی خودمختاری دینا چاہتا ہے تاکہ صوبے اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا متفقہ فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی قیادت ملک کے مسائل حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ پر وزیراعظم کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کےلئے پوری طرح تیار ہے تاہم بم دھماکوں اور شہداءکے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی اور سکیورٹی معاملات کے باعث پنجاب کے بجٹ پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث بھی پنجاب کی صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کےلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے اور کوشش ہے کہ جلد از جلد کرائے کے بجلی گھر اپنا کام شروع کردیں۔ دونوں رہنماﺅں نے پنجاب کابینہ میں توسیع پر بھی اتفاق کیا۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ہم این ایف سی ایوارڈ کی طرح پنجاب کابینہ میں توسیع کے معاملے پر بھی کھلے دل کا مظاہرہ کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا پنجاب میں اتحاد کامیابی سے آگے بڑھے اور پنجاب کابینہ میں توسیع کر کے موجودہ وزراءپر کام کے بوجھ کو کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کابینہ میں متفقہ فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی کو مزید وزارتیں بھی دی جائیں گی اور اس حوالے سے فیصلہ جلد کر لیا جائےگا۔ وزیراعظم نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے میاں محمد نوازشریف کے کردار کی تعریف کی ہے۔ شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ تمام فیڈریشن یونٹ کا ایک ہی فارمولے پر اتفاق رائے ہونا ایک شاندار کامیابی ہے۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کو جمہوریت کا تحفہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاستدان ملکی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے سے ملکی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا اور یہ قائداعظم ؒ کی خواب کے تعبیر ثابت ہو گا۔
کراچی (کلچرل رپورٹر/ آئی این پی) وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ وزیر ستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے کی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے، آپریشن کامیابی سے جاری ہے ، مسلح افواج نے دہشت گردوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے ، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ، دہشت گرد جہاں جائیں گے ان کا پیچھا کرینگے، حکومت دہشت گردی کے خلاف جہاد کر رہی ہے‘ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک جاری رہے گا، ہماری مفاہمت کی سیاست قائداعظمؒ کے اصولوں کے مطابق ہے، حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہے ۔گزشتہ روز ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خوش بخت شجاعت کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغن لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتے، کابینہ میں تبدیلی معمول کی کارروائی ہے اس پر حیران نہیں ہونا چاہئے ۔ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے جہاں پر ہر کام قانون کے مطابق ہو گا، سوات اورمالاکنڈ میں امن قائم ہو گیا ہے اور متاثرین کی گھروں کو قلیل وقت میں واپسی ایک ریکارڈ ہے جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ قومی معاملات پر مسلم لیگ (ن) سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے ملکی مفاد ، اداروں کی بالادستی کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ این این آئی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن جاری ہے‘ ضرورت پڑنے پر دیگر ایجنسیوں میں بھی آپریشن کیا جائے گا۔ پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم این آر او کا دفاع نہیں کریں گے۔ 27دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر لیاقت باغ میں یادگار کی بنیاد رکھی جائے گی‘ غیرملکیوں کی جانب سے سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے یر تلاشی لینے پر دھمکی دینے کی رپورٹ آئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


link...
read more...

قرضوں کی معافی کی بہتی گنگا!

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 60 ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کرانے والوں کی فہرست منظر عام پر آگئی ، 1985 ء سے 1999 ء تک 120 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے۔ جبکہ دیگر ارکان نے اس وقت نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک آف پاکستان سمیت تین بینکوں سے بارہ کروڑروپے کے قرضے خاموشی کے ساتھ معاف کرالئے، جب وہ برسراقتدار تھے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کی لائبریری کے سرکاری ریکارڈ میں کیا گیا ہے جس سے باضابطہ طور پر حقیقت اس کی تصدیق ہو گئی ہے کہ متعدد بااثر سیاستدانوں اور ان کے اہل خانہ نے متعدد بینکوں سے لئے گئے قرضے اپنی شوگر ملز  ٹیکسٹائل ملز اور دیگر صنعتی یونٹوں کے لئے لئے گئے قرضے خاموشی کے ساتھ معاف کرالئے۔ یہ بینک قرضے ماضی میں زیادہ تر سرکاری نیشنل بینک آف پاکستان اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی جانب سے معاف کئے گئے۔دی نیوز کو دستیاب سرکاری ریکارڈ سے جو نیشنل اسمبلی میں گزشتہ ایک دہائی کے حوالے سے پیش کیا گیا یہ لرزہ خیز انکشاف ہوتا ہے کہ 1985ء سے 2002ء کے دوران مجموعی طور پر30ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے جو بااثر سیاستدانوں اور طاقتور صنعتی گروپوں پرواجب الادا تھے۔ کچھ قرضے بینکاری قوانین کے مطابق درست طور پر معاف کرائے گئے جبکہ بڑی تعداد میں ملی بھگت تھی ۔یہ فہرست 1993ء میں اس وقت کی معین قریشی کی زیر قیادت نگراں حکومت نے مرتب کی تھی جبکہ 2007ء میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 2002ء سے2007ء کے دوران مشرف حکومت نے 54 ارب روپے معاف کئے اس طرح معاف کرائی جانے والی کل رقم 85ارب روپے بنتی ہے لیکن قومی اسمبلی میں حال ہی میں وقفہ سوالات میں بتایا گیا کہ معاف کرائے گئے قرضوں کی رقم پی پی پی کے حالیہ دور میں معاف کئے گئے قرضوں کو ملا کر ایک کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔1985ء سے2002ء کے دوران قرضوں کی معافی کی بہتی گنگامیں اشنان کرنے والے افراد اور خاندانوں کی سرکاری فہرست سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے۔
link...
read more...

وزیر اعظم کی وفاقی وزراء کو وارننگ!

وزیر اعظم سید یوسف رضاء جیلانی نے وفاقی وزراء کو حتمی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں بصورت دیگر کابینہ سے اخراج کے لئے تیار رہیں،وزیر اعظم کے مطابق جن وزراء اور وزرائے مملکت نے اپنے حلقوں میں عوام سے رابطہ منقطع کیا ہوا ہے انہیں کابینہ میں رہنے کا حق نہیں ہے، منسٹرشپ صرف گاڑیوں اور گھروں پر قومی پرچم لہرانے کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد عوام کی بھلائی

کے اقدامات کے ذریعے اپنی اور پارٹی کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے، کابینہ کے اندرونی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے کوبتایا ہے کہ کچھ وزراء کی کارکردگی نے وزیر اعظم کو بر افروختہ کردیا ہے، وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وزراء اپنے حلقوں کا دورہ کریں اور عوام سے رابطہ میں رہیں، صرف لاہور کراچی تک محدود نہ رکھیں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی جائیں، وزیر اعظم نے متنبہ کیا ہے کہ وہ خود بھی پیشگی اطلاعات کے بغیر مختلف ڈویژنوں اور وزارتوں کا دورہ کریں گے اور وزراء اور سرکاری حکام کی کارکردگی دیکھیں گے،کہ کون کس طرح اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

link...
read more...

مالیاتی ایوارڈ پر وفاق اور صوبوں میں اتفاق

وفاق اور چاروں صوبے ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ میں آبادی، غربت اور پسماندگی پر متفق ہوگئے ہیں، جس کے تحت صوبوں کو دیے جانے والے وسائل سے پنجاب کو 51.74، سندھ 24.55، سرحد 14.62 اور بلوچستان کو 9فیصد حصہ ملے گا۔ آبادی پر 82، پسماندگی پر10.3، محصولات پر 3 اور 12فیصد وسائل کی تقسیم غربت کی بنیاد پر ہوگی ۔ 19سال بعد یکم جولائی2010سے ایوارڈ پر عملدرآمد ہوگا۔ این ایف سی ایوارڈ پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی نے دستخط کیے۔وزیر خزانہ شوکت ترین، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور این ایف سی کے ممبران نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پوری قوم کو این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے کی خوش خبری سنائی۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے نئے این ایف سی ایوارڈ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تمام صوبوں نے بلوچستان کی ضروریات کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ بلوچستان کو نئے ایوارڈ کے تحت اگلے سال سے 83 ارب روپے دیئے جائینگے، چاہے وفاقی حکومت کے ریونیو میں کمی ہو پھر بھی بلوچستان کا پورا حصہ دیا جائیگا، پرانے فارمولے کے تحت وفاقی حکومت ریونیو کی وصولی پر پانچ فیصد وصولی کے اخراجات وصول کرتی تھی۔ نئے فارمولے میں آئین کے مطابق اب وفاق ٹیکس جمع کرنے کے اخراجات پانچ فیصد کی بجائے ایک فیصد وصول کریگا، چار فیصد صوبوں کو چلا جائیگا۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات 14.1 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کئے ہیں جبکہ وسائل 8.1 فیصد سے بڑھا کر 13.9 فیصد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ خدمات کے شعبہ پر سیلز ٹیکس وفاق کی بجائے اب صوبے وصول کریں گے اور یہ انہی کا حصہ ہو گاجبکہ دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کریگی ، یہ زیادہ اخراجات صوبہ سرحد میں ہو رہے ہیں جبکہ صوبوں نے بھی اپنے حصے کا ایک فیصد دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والے اخراجات کیلئے مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر اگلے سال کیلئے 56 فیصد جبکہ بقیہ چار سالوں کیلئے 57.5 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبے قابل تقسیم محاصل کے نئے کثیر الجہتی فارمولے پر بھی متفق ہو گئے ہیں اور آبادی کا حصہ 82 فیصد، پسماندگی و غربت 10.3 فیصد، ریونیو جنریشن 5 فیصد اور آبادی کی کثافت کا حصہ 2.7 فیصد ہو گا۔ اس نئے فارمولے کے بعد وفاقی قابل تقسیم محاصل میں پنجاب کا حصہ 51.79 فیصد، سندھ کا 24.55 فیصد، سرحد کا 14.62 فیصد اور بلوچستان کا 9.09 فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے اور یہ طے پایا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے پہلے سال بلوچستان کو 83 ارب روپے قابل تقسیم محاصل سے دیئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ نے اپنے وسائل سے 6 ارب روپے اضافی بلوچستان کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ستمبر سے اب تک این ایف سی کے چھ سیشن ہوئے، جس میں اس کے تمام پہلوؤں پر کھلے دل کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں صدر، وزیراعظم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وفاق کی طرف سے فیصلے کرنے کا مجھے اختیار دیا ، اس سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اعتماد بحال ہو گا اور صوبے مل کر ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کر سکیں گے۔
link...
read more...

Wednesday, November 25, 2009

وویک اور سلمان خان میں باقاعدہ تصادم شروع

ممبئی : بالی وڈ اسٹار وویک اوبرائے نے سلمان خان سے مزید دوستی کی درخواست نہ کرنے کافیصلہ کرلیا۔وویک ، سلمان خان کے خلاف پریس کانفرنس کے بعد متعدد بار ان سے معافی مانگ چکے ہیں لیکن سلو نے انہیں معاف نہ کیاجس کے بعد وویک نے ان سے مزید دوستی کی درخواست نہ کرنے کے فیصلے کے ساتھ تصادم کا بھی اشارہ بھی دیا۔ ایک شو کے دوران وویک اوبرائے نے سلمان خان کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں بھی کھل کربتایا۔ انہوں نے کہا کہ سلمان خان کی جانب سے مجھے ایڈیٹ کہا گیا جسے میں نے اپنے لئے دعا کے طور پر لیاکیوں کہ تین ایڈیٹس کے ساتھ چوتھا میں بھی بنناچاہتا ہوں۔ان کا کہنا تھاکہ میں لڑنا جانتا ہوں اور مجھے پتا ہے کہ حریف کاکو کیسے قابو کیا جاتا ہے، میدان میں سامنے والے کی جسامت نہیں دیکھی جاتی بلکہ جوپہلے وار کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے
read more...

فرانسیسی خاتون اول کارلا برونئی ہالی وڈ میں کام کرینگ

پیرس : فرانس کی خاتون اول اور سابق ماڈل کارلا برونئی نے ہالی وڈ میں کام کرنے کی پیش کش قبول کرلی۔ ایک غیر ملکی نجی چینل پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے فرانسیسی خاتون اول نے کہا کہ انہیں ہالی ووڈ میں ایک فلم کی پیشکش ہوئی ہے، جو انہوں نے قبول کرلی ہے۔ بیالیس سالہ کارلا کا کہنا ہے کہ وہ اداکاری سے ناواقف ہیں لیکن فلم کی کامیابی کیلئے پوری کوشش کریں گی۔ ان کے مطابق جب وہ نانی اور دادی بنیں گی تو اپنے بچوں کے بچوں کو بتا سکیں گی کہ انہوں نے ہالی ووڈ میں ووڈی ایلین کی فلم میں کام کیا ہے
link...
read more...

کراچی:غیر ملکی کمپنیوں کے منافع میں کمی

کراچی : رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران غیرملکی کمپنیوں کے منافع میں27 اعشاریہ 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2009ءکے دوران غیرملکی کمپنیوں نے 20 کروڑ ڈالر کا منافع اپنے وطن ارسال کیا۔ گزشتہ سال اس مدت میں 27 کروڑ 67 لاکھ ڈالر ترسیل کئے گئے تھے۔ شوگر انڈسٹری کے منافع میں سب سے زیادہ 1 سو78فیصد اضافہ ہوا۔کیمیکل انڈسٹری کا171 فیصد، ٹیکسٹائل انڈسٹری کا 118 فیصد اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری کا منافع 106 فیصد بڑھ گیا تاہم پیٹرولیم ریفائنریز کا منافع 90 فیصد، فوڈ پیکیجنگ انڈسٹری کا 70 فیصد، ادویہ ساز کمپنیوں کا60 فیصد اور فرٹیلائزر سیکٹر کا منافع 49 فیصد کم ہوگیا
read more...

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل

سنگاپور : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 76 ڈالر فی بیرل ہوگئیں۔ بدھ کو لائٹ سویٹ خام تیل کے مستقبل کیلئے سودے 7 سینٹ کمی سے 75.95 ڈالر فی بیرل میں طے ہوئے، برینٹ نارتھ خام تیل کے آئندہ برس جنوری کیلئے سودے 12 سینٹ اضافہ کےساتھ 76.58 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔ تیل کی تلاش اور تجزیہ کرنے والی 10 عالمی تنظیموں نے کہا ہے کہ آئندہ برس معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے تیل کی یومیہ طلب میں 13 لاکھ بیرل اضافہ کے امکانات ہیں۔ دوسری طرف تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے تیل کی حالیہ قیمتوں کو موزوں قرار دیا ہے اور تیل کی پیداوار میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
link...
read more...

ارجنٹائن: فٹبال میچ، جھڑپیں،30 افراد زخمی

بیونس آئرس: ارجنٹائن میں فٹ بال میچوں کے دوران پولیس اورشائقین کے درمیان جھڑپوں میں تیس افراد زخمی ہوگئے۔ ارجنٹائن کے شہربیونس آئرس میں نیویلزاولڈ بوائزاور روز اریو سینٹرل کلب کے درمیان کھیلے جانیوالے میچ سے قبل ہنگامہ آرائی کا آغازاس وقت ہوا جب روزاریوسینٹرل کے سپورٹرزجعلی ٹکٹوں پر اسٹیڈیم میں داخل ہوئے اورانہوں نے جگہ کے حصول کیلئے مقامی شائقین پرحملہ کردیا۔ پولیس نے تماشائیوں پرربرکی گولیاں فائرکیں جس سے کئی افرادزخمی ہوگئے جبکہ دس کوگرفتارکرلیا گیا۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی جب گراو?نڈمیں آئے تواسٹینڈزمیں سے اولڈبوائزکی ٹیم کے گول کیپرپابلومیگلیور پرچاقوبھی پھینکاگیا۔ اس سے قبل ہفتے کوبیونس آئرس میں ہی دومقامی کلبس کے درمیان کھیلے جانیوالے میچ سے قبل دونوں ٹیموں کے مداحوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں جس کی وجہ سے میچ آدھے گھنٹے تاخیرسے شروع ہوا۔ پولیس نے تماشائیوں کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس استعمال کی جس سے بیس افرادزخمی ہوئے جبکہ دوکوگرفتارکرلیا گیا
link...

read more...

سکواش: میتھیو نے قطراوپن ٹائٹل جیت لیا

دوہا: ٹاپ سیڈ مصری کھلاڑی کریم درویش قطر اسکواش اوپن کے فائنل میں انگلینڈ کے نک میتھیو کے ہاتھوں حیران کن شکست کھا گئے۔ پیر کو قطر کے شہر دوحا میں کھیلی جانے والی چیپمئن شپ میں نمبر چار سیڈ انگلینڈ کے نک میتھیو نے ٹاپ سیڈ کریم درویش کو شکست دینے کیلئے صرف 23 منٹ کا وقت لیا۔ اس میچ میں میتھیو نے 11-5، 11-3 اور 11-3 سے شکست دی۔ چیمپئن شپ میں عالمی نمبر دو فرانس کے گریگری گولٹیئر کو حیران کن شکست دینے والے ٹاپ پاکستانی کھلاڑی عامر اطلس خان اپنی پیش قدمی کوارٹر فائنل تک جاری رکھ سکے۔ خواتین مقابلوں کے فائنل میں بھی انگلینڈ کی جینی ڈنکالف نے بھی حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمبر دو سیڈ آسٹریلیا کی رشائل گرنہام کو شکست دیکر ٹائٹل حاصل کیا
read more...

پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے 7جنوری تک آئی پی ایل دروازے کھلے

لاہور:آئی پی ایل کے کمشنرللت مودی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی سات جنوری تک آئی پی ایل جوائن کرسکتے ہیں ۔للت مودی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے آئی پی ایل کے تیسرے ایڈیشن کیلئے انٹری تاریخ بڑھاکر سات جنوری کردی ہے جس میں پاکستانی کھلاڑی ویزہ حاصل کرکے اپنی اپنی ٹیموں کو جوائن کرسکتے ہیں۔دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے پی سی بی کو تاحال کھلاڑیوں کو بھارت جانے یا نہ جانے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد وزارت کھیل نے وزرات داخلہ اور خارجہ کو خط لکھ دیا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ کھلاڑیوں کو بھارت جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کرکٹ کھیل سکیں۔تاہم بھارتی حکومت پاکستان کے درمیان ایک بارپھرحالات کشیدہ ہونے پر کھلاڑیوں کو جانے سے روکنے کا بھی اندیشہ ہے تاہم تمام لوگوں کو حکومت پاکستان کے جواب کا انتظار ہے
link...
read more...

میکسیکن باکسر فرانسسکو راڈیگائز کا مقابلے کے دوران انتقال

فیلاڈیلفیا : میکسیکو کے باکسر فرانسسکو راڈریگائز مقابلے کے دوران اچانک انتقال کر گئے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز فیلا ڈیلفیا میں ہونے والے یو ایس باکسنگ ایسوسی ایشن ٹائٹل میں فرانسسکو کا مقابلہ ٹان کینڈی سے ہو رہا تھا کہ 10 ویں رانڈ میں فرانسکوبے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑے ۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے
read more...

بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے میں شمولیت سے انکار

واشنگٹن : امریکہ نے بارودی سرنگوں پر پابندی کے بین الاقوامی معاہدے میں شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران رواں ہفتے کے آخر میں اِسی موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں امریکی وفدکے شرکت کرنے کی تصدیق کی ۔ 1997 میں منظور کئے جانے والے معاہدے کی توثیق امریکہ، چین اور روس سمیت چند اور ملکوں نے نہیں کی۔ اب تک اِس بین الاقوامی سمجھوتے پر 156ممالک نے دستخط کئے ہیں۔ بارودی سرنگوں پر مکمل پابندی کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس کولمبیا کے شہر کارٹا جینا میں آئندہ اتوار سے شروع ہو رہی ہے
link...
read more...

حملوں کی دھمکی کا زمانہ گذرچکا،احمدی نژاد


برازیلیہ : ایران کے صدر محمود احمدی نژادنے کہا ہے کہ حملوں اورفوجی کاروائیوں کی دھمکی کا زمانہ گذرچکا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق برازیلیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حملہ اور فوجی دھمکی سیاسی طور پر پسماندہ افراد کی سوچ ہے۔انہوں نے کہا کہ پرامن جوہری توانائی سے استفادہ کرنا ایران اور برازیل کے عوام کا حق ہے اورقانون کے مطابق قوموں کے درمیان ایٹمی تعاون انجام پائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات میں فروغ کے سلسلے میں کسی بندش کا قائل نہیں ہے اورجہاں بھی ملک کے مفادات کاتقاضہ ہوگا باہمی تعاون انجام پائےگا
link...
read more...

بے قصور افراد کو رہا کردیا جائیگا،رحمن ملک

اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کے متعلق ہمارے پاس ایک ہزار 11 افراد کی فہرست موجود ہے۔ سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے اور بے قصور افراد کو رہا کردیا جائیگا، بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا۔ صوبہ میں اجرتی قاتلوں کو گرفتار کیا جاچکاہے۔ آنیوالے وقت میں بلوچستان میں بہت زیادہ خوش حالی دیکھ رہاہوں۔پیکیج پر براہمداغ بگٹی سے بات کرنے کی بجائے پارلیمنٹ جیسے مضبوط ادارے میںبات کی جائیگی ،بلوچستان میں حکومتی رٹ قائم ہے کہیں بھی کوئی اپنی مرضی کاقانون مسلط نہیں کرسکتا۔ منگل کو پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ ہماری حکومت قائم ہونے کے بعد لاپتہ افراد کا معاملہ ہمارے سامنے لایا گیا اور ان افراد کی بازیابی کیلئے9 اجلاس اب تک منعقد کئے جاچکے ہیں اور ہمارے پاس 6000 افراد نہیں بلکہ ایک ہزار گیارہ افراد کی فہرست موجود ہے جس میں سے بہت سے افراد کی شناخت ہوچکی ہے مزید ہمیں سپریم کورٹ سے بھی لاپتہ افراد لگا لیا جائیگا، وفاقی وزیر نے کہا کہ جیل میں قید بے قصور اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے تمام افراد کو رہا کردیا جائیگا، اس سلسلے میں حکومت بلوچستان سے بات ہوگئی ہے۔ سنگین جرائم کے حامل افراد پر بھی مقدمات قائم ہونے کے بعد عدالتوں میں پیش کیاجائیگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں بار ہا کہہ چکا ہوں کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت پیش آئی ہے۔ بلوچستان کے عوام اطمینان رکھیں۔ پیپلز پارٹی حکومت ایسا کوئی اقدام نہ اٹھائیگی، جس سے ملکی یا عوامی نقصان ہو رحمن ملک نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے جہاں فرنٹیئر کور منگوائی تھی وہاں بھیج دی گئی ہے اور ایسا صرف وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی درخواست پر کیا گیا اس کے علاوہ مچھ میں دو قبائلیوں کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے وہاں فرنٹیئر کور تعینات کی گئی ہے تاکہ ان کے درمیان لڑائی ختم کرائی جائے۔ رحمن ملک نے کہا کہ آج ہمیں بلوچستان کے عوام اوردیگر اعلی افسران کے فون آرہے ہیں کہ اجرتی قاتلوں کا بندوست کیاجائے لہذا اس کیلئے بھی ہم نے بروقت اور مناسب اقدامات کر کے ان اجرتی قاتلوں کو گرفتار کرلیا ہے جو زخمی کرنے کے الگ اور قتل کرنے کے الگ پیسے مانگتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں مکمل حکومتی رٹ قائم ہے اور بلوچستان پاکستان کا اہم صوبہ ہے۔ کسی کو وہاں مرضی کا قانون مسلط نہیں کرنے دینگے اور نہ ہی ابھی تک کسی نے کوئی جرات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالے وقتوں میں بلوچستان میں خوش حالی دیکھ رہا ہوں اور وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ امن وامان قائم ہوجائیگا اور یہاں کے عوام صرف اور صرف خوشحالی دیکھیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ براہمداغ بگٹی سے بلوچستان پر بات کرنے سے بہتر فورم پارلیمنٹ ہے ۔ یہاں عوامی مسائل کے حل کیلئے تجاویز لی اور دی جاتی ہیں ۔ کسی فرد واحد سے صوبے بارے کوئی مشورہ نہیں لیا جاسکتا
read more...

بلوچستان پیکج مسائل کےحل کا آغاز ہے، صدرزرداری

اسلام آباد : صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان پیکج صوبوں کے مسائل پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنے کا آغاز ہے، پیکج پر مکمل عملدرآمد کا عزم کرنا ہو گا۔ایوان صدر میں ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشائیہ کے موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بلوچستان پیکج کے ذریعے حکومت اور اتحادی جماعتوں نے ایک نئی شروعات کا ماحول پیدا کیا ہے۔ عشائیے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزراء اور اتحادی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔ صدر نے بلوچستان پیکج پر پارلیمانی کمیٹی اور تمام سیاسی جماعتوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ دسمبر دو ہزارچھ کو بے نظیر بھٹو شہید نے بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کا وعدہ کیا تھا اور آج یہ موقع ہم سب کے لئے بہت اطمینان بخش ہے۔ صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ، اس میں قیادت کا جذبہ اور صلاحیت ہے اور وہ اس کا طریقہ بھی جانتی ہے
link...
read more...

نوابشاہ میں وزیراعظم سے نوازشریف کی ملاقا

نوابشاہ : نواب شاہ ائر پورٹ پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کی ملاقات میں ٍاحتساب بل پر تفصیلی گفت گو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز نواب شاہ ائر پورٹ کے وی آئی پی لاوئج میں 35 منٹ ملاقات جاری رہی جس میں دونوں رہ نماوں کے درمیان احتساب بل پر تفصیلی گفت گو کی گئی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ملاقات میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ احتساب بل کا ڈرافٹ آج موصول ہوا ہے اس پر پارٹی میں تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ احتساب بل کے 80 فیصد مندرجات پر اتفاق ہے لیکن باقی نکات پر تحفظات ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ احتساب بل میں پبلک عہدہ رکھنے والوں کی ریٹائرمنٹ کے تین سال کے بعد مقدمہ نہ بنانے کی شق پر اعتراض ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونو ں راہنماوٴں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سیاستدانوں کی کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ صدر زرداری سے ملاقات میں احتساب بل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ نواب شاہ ائر پورٹ پر وزیر اعظم،نواز شریف اور رضا ربانی کی علیحدگی میں 20 منٹ تک گفتگو بھی ہوئی۔
read more...

ممبئی حملہ:7 ملزموں پر فرد جرم عائد

راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ممبئی حملوں کی سازش میں گرفتار ہونے والے سات ملزمان پر فرد جُرم عائد کر دی ہے اور ملزمان نے صحت جُرم سے انکار کیا ہے جبکہ اجمل قصاب سمیت نو افراد کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔بدھ کے روز انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج اکرم اعوان نے اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی اور عدالت نے ملزمان کی موجودگی میں اُن پر لگائے جانے والے فرد جُرم کی کاپیاں اُن میں تقسیم کیں۔ جن ملزمان کےخلاف فرد جُرم عائد کی گئی ہے اُن میں مولانا زکی الرحمن لکھوی، شاہد جمیل ریاض،حماد امین صادق، مظہر اقبال، جمیل احمد، عبدالواجد اور یونس انجم شامل ہیں۔ ملزم شاہد جمیل کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا ہے کہ ملزمان پر جو فرد جُرم عائد کی گئی ہے وہ پراسکیوشن کو دی جانے والی تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اُن کے موکل کے خلاف لگائی جانے والی فرد جُرم کو چیلنج کریں گے۔ عدالت نے ملزمان کے وکلاء کی طرف سے ممبئی حملوں کا مرکزی کردار اجمل قصاب کے اقبالی بیان کےخلاف دائر کی جانے والی درخواستوں مسترد کردی ہیں۔ ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ اجمل قصاب کا بیان بھارت میں لیاگیا ہے جو پاکستانی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
link...
read more...

غیر اعلانیہ آپریشن:ہزاروں افراد کی نقل مکانی

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی اور صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں غیر اعلانیہ آپریشن کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ حکومت نے بعض علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کے داخلے پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہنگو کے علاقے شاہو خیل میں چار دن پہلے سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کی وجہ سے شاہو خیل اور اورکزئی ایجنسی کے بعض علاقوں سے ہزاروں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے چند دنوں سے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے شدت پسندوں کے پناہ گاہوں اور مراکز پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے شاہو خیل اور اورکزئی ایجنسی کے علاقوں غلجو، ڈبوری، ماموں زئی، شاہو خیل اور دیگر دیہاتی مقامات پر ہزاروں افراد بے گھر ہوکر محفوظ مقامات کی طرف مننتقل ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر بمباری اور شیلنگ میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں عام باشندے بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ شہر مقامات پر بمباری کی وجہ سے مقامی افراد وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بے گھر افراد کو ہنگو شہر اور کوہاٹ کی طرف جانے اور رہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس علاقے میں بیت اللہ گروپ کے طالبان کا اثررسوخ زیادہ بتایا جاتا ہے۔ یہاں شعیہ سنی فسادات بھی ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اہل تشیع یہ علاقہ چھوڑ کر دیگر شہروں میں آباد ہوگئے ہیں۔چند ہفتے قبل یہاں شدت پسندوں نے اہل تشیع کے چالیس سے زائد مقامات کو بم دھماکوں میں تباہ کردیا تھا۔
read more...

اسلام اور پاکستان کو جدا نہیں کیا جاسکتا، جنرل کیان

پشاور : چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ کوئی بھی اسلام کو پاکستان سے جدا نہیں کرسکتا۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دورہ پشاور کے دوران شہدا کے لئے دو کروڑ روپے فنڈز دینے کا اعلان کیا۔ اس موقعے پر آرمی چیف نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے افواج پاکستان اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ جنرل کیانی نے کہا کہ نہ صرف پولیس کو جدید آلات فراہم کئے جائیں گے بلکہ پاک فوج سرحد پولیس کی ٹریننگ میں بھی مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کیا۔ اور یہ ملک اسی نام سے قائم رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ آرمی چیف نے پشاور کے لوگوں کے حوصلے کی تعریف کی۔ اور سرحد کی قربانیوں پر فورس کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے سرحد پولیس کو ہر قسم کی تربیت اور ہتھیاروں کی فراہمی کا وعدیٰ کیا۔ اس سے قبل آرمی چیف نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں مختلف بم دہماکوں کے زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقعے پر آئی جی سرحد ملک نوید نے آرمی چیف کو شیلڈ پیش کی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پشاور آمد کے موقعے پر کور کمانڈر مسعود اسلم نے ان کا استقبال کیا۔جنرل کیانی کی پشاور آمد کے موقعے پر سیکورٹی ہائی الرٹ کرکے کینٹ ایریاسیل کردیا گیا ہے جبکہ علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے
read more...

آغاز حقوق بلوچستان پیکیج

وفاقی حکومت نے آغازِ حقوق بلوچستان پیکیج پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے جس کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے سوا تمام آپریشن اور نئی چھاؤنیوں کی تعمیر پر پابندی، سوئی سے فوج واپس بلانے، لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے عدالتی کمیشن، فرنٹیئر کور اور کوسٹ گارڈز وزیراعلیٰ کے ماتحت، نواب اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کرنے، ڈیرہ بگٹی کے بے گھر افراد کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے فراہم، سنگین جرائم میں ملوث افراد کے علاوہ تمام سیاسی کارکنوں کو رہااور جلاوطن رہنماؤں کی واپسی کی سفارشات اور تجاویز دی گئی ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی نے ’آغازِ حقوق بلوچستان‘پیکیج پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ پیکیج صوبائی خودمختاری کا متبادل نہیں، وسائل پر صوبوں کا حق تسلیم کرلیا،پیکیج کے تحت صوبے کی ترقی کیلئے انتظامی، سیاسی اور مالیاتی اقدامات کئے جائیں گے، وسائل پر صوبوں کا حق تسلیم کیا گیا ہے جس کیلئے آئینی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پر آئین میں ترمیم کی جائیگی، گوادر میں زمین کی تقسیم کی تحقیقات ہوگی، میگا پراجیکٹس میں گریڈ ایک سے 16 تک کی بھرتیوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے فوری طور پر 5ہزار نئی آسامیوں کا انتظام کریگی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں بلوچستان کو 12 سال میں 120 ارب روپے جبکہ ڈیرہ بگٹی کے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیکیج میں سنگین جرائم میں ملوث افراد کے علاوہ تمام سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائیگا۔ جلاوطن سیاسی رہنماؤں کو وطن واپسی کیلئے سہولیات فراہم کی جائینگی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاق کی طرف سے صوبے کو 4 ارب 60 کروڑ روپے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت دیئے گئے ہیں اور 2 ارب 80 کروڑ روپے اوچ کی رائلٹی کیلئے بقایا جات کی مد میں دیئے گئے ہیں، یہ بقایا جات 1995ء سے بقایا تھے جبکہ بلوچستان کے ذمہ اوور ڈرافٹ کے ساڑھے 17 ارب روپے معاف کر دیئے گئے تاہم ہمیں یہ ادراک ہے کہ یہ صوبائی خود مختاری کے متبادل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تمام سیاسی قیادت سے مذاکرات کا آغاز کیا جائیگا تاکہ ان کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔ انتظامی معاملات کے حوالہ سے رضا ربانی نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے فوری طور پر وفاقی اداروں کے کردار کا جائزہ لیا جانا چاہئے اور دہشت گردی کیخلاف لڑنے کے علاوہ دیگر تمام آپریشن فوری طور پر روک دیئے جانے چاہئیں۔ وفاقی حکومت کو اعلان کرنا چاہئے کہ سوئی کے علاقے سے فوج کو واپس بلائی جائے اور ان کی جگہ ایف سی کے اہلکار تعینات کئے جائیں جو موجودہ حالات میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالہ سے ایک کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے جس کی سربراہی بلوچستان کی اعلیٰ عدالت کے ایک جج کو دی جائے جبکہ اس میں وفاقی وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ شامل ہوں۔ اس کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہونا چاہئے۔ لاپتہ افراد کے نام فوری طور پر سامنے لائے جائیں اور جن افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے اور جن پر کوئی الزامات نہیں ہیں ان کو رہا کیا جانا چاہئے ۔ جن افراد پر الزامات ہوں ان کو سات یوم کے اندر اندر عدالت میں پیش کیا جانا چاہئے، ان افراد کو ان کی مرضی کے وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ان کے خاندان کے افراد کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے سیاسی کارکنوں غلام محمد، لالا منیر اور منیر احمد کے قتل کے علاوہ صوبہ میں ٹارگٹ کلنگ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے جبکہ نواب اکبر بگٹی شہید کے قتل کے حقائق جاننے کیلئے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن قائم کیا جائیگا، فی الوقت صوبہ بلوچستان کے علاقوں سوئی اور کوہلو میں فوجی چھاؤنیاں تعمیر کرنے کا کام روک دیا گیا ہے اور سوئی میں ایف سی کو ڈیوٹی حوالے کرنے کے بعد فوج واپس بلائی جائیگی جبکہ تعمیر شدہ چھاؤنیوں کو بھی ایف سی کے حوالے کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے ”بی“ علاقوں کو ”اے“ علاقوں میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا جبکہ شہری علاقوں میں ریگولر پولیس تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے سول آرمڈ فورسز کے کردار کے حوالہ سے کہا کہ قانون نافذ کرنے کے سلسلہ میں ایف سی وزیراعلیٰ کے ماتحت کام کرے گی اور اسے کسٹم ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات واپس لئے جائیں گے۔ اس طرح کوسٹ گارڈ سرحدوں اور ساحلی علاقوں میں اسلحہ اور منشیات اسمگلنگ کی نگرانی کا کام کرے گی اور قانون سے ماوراء ان کی قائم کردہ چیک پوسٹوں کو ختم کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی موٴثر نگرانی کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت اور ایف سی کی طرف سے سرحدوں کی دوبارہ حد بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں اراضی کی الاٹمنٹ کے حوالہ سے اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے انکوائری کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلحاظ عہدہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبے سے 7 ارکان کو شامل کیا جائے گا جبکہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کی نامزدگی صوبائی حکومت کریگی۔ انہوں نے کہا کہ سوئی کے علاقے کے لئے ایک خصوصی ترقیاتی پیکیج پیش کیا جانا چاہیے‘ مسلح افواج کو ایک طریقہ کار کے مطابق علاقے سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے لئے ملازمت کی پانچ ہزار آسامیاں فوری طور پر پیدا کرے گی‘ سرکاری ملازمت بالخصوص فارن سروس‘ نیم سرکاری‘ خود مختار‘ کارپوریشنوں اور دوسرے اداروں میں ملازمت کے لئے صوبائی کوٹے پر قواعد اور قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تفریق کا ازالہ کیا جائے گا۔ پیکیج کے حوالے سے سفارشات میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت‘ صوبائی حکومت اور دیگر ایسے ادارے اور محکمہ جو ان سفارشات پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہونگے وہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو ماہانہ بنیادوں پر عملدرآمد کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر تین ماہ بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ ”آغازِ حقوق بلوچستان پیکیج“ 11 صفحات پر مشتمل ہے جس میں 39 شقیں ہیں‘ آئینی امور سے متعلق تین‘ سیاسی معاملات سے متعلق پانچ اور انتظامی معاملات سے متعلق تیرہ جبکہ اقتصادی اُمور پر شقوں کی تعداد 14ہے۔
link...
read more...