اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کے متعلق ہمارے پاس ایک ہزار 11 افراد کی فہرست موجود ہے۔ سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے اور بے قصور افراد کو رہا کردیا جائیگا، بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا۔ صوبہ میں اجرتی قاتلوں کو گرفتار کیا جاچکاہے۔ آنیوالے وقت میں بلوچستان میں بہت زیادہ خوش حالی دیکھ رہاہوں۔پیکیج پر براہمداغ بگٹی سے بات کرنے کی بجائے پارلیمنٹ جیسے مضبوط ادارے میںبات کی جائیگی ،بلوچستان میں حکومتی رٹ قائم ہے کہیں بھی کوئی اپنی مرضی کاقانون مسلط نہیں کرسکتا۔ منگل کو پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ ہماری حکومت قائم ہونے کے بعد لاپتہ افراد کا معاملہ ہمارے سامنے لایا گیا اور ان افراد کی بازیابی کیلئے9 اجلاس اب تک منعقد کئے جاچکے ہیں اور ہمارے پاس 6000 افراد نہیں بلکہ ایک ہزار گیارہ افراد کی فہرست موجود ہے جس میں سے بہت سے افراد کی شناخت ہوچکی ہے مزید ہمیں سپریم کورٹ سے بھی لاپتہ افراد لگا لیا جائیگا، وفاقی وزیر نے کہا کہ جیل میں قید بے قصور اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے تمام افراد کو رہا کردیا جائیگا، اس سلسلے میں حکومت بلوچستان سے بات ہوگئی ہے۔ سنگین جرائم کے حامل افراد پر بھی مقدمات قائم ہونے کے بعد عدالتوں میں پیش کیاجائیگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں بار ہا کہہ چکا ہوں کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت پیش آئی ہے۔ بلوچستان کے عوام اطمینان رکھیں۔ پیپلز پارٹی حکومت ایسا کوئی اقدام نہ اٹھائیگی، جس سے ملکی یا عوامی نقصان ہو رحمن ملک نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے جہاں فرنٹیئر کور منگوائی تھی وہاں بھیج دی گئی ہے اور ایسا صرف وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی درخواست پر کیا گیا اس کے علاوہ مچھ میں دو قبائلیوں کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے وہاں فرنٹیئر کور تعینات کی گئی ہے تاکہ ان کے درمیان لڑائی ختم کرائی جائے۔ رحمن ملک نے کہا کہ آج ہمیں بلوچستان کے عوام اوردیگر اعلی افسران کے فون آرہے ہیں کہ اجرتی قاتلوں کا بندوست کیاجائے لہذا اس کیلئے بھی ہم نے بروقت اور مناسب اقدامات کر کے ان اجرتی قاتلوں کو گرفتار کرلیا ہے جو زخمی کرنے کے الگ اور قتل کرنے کے الگ پیسے مانگتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں مکمل حکومتی رٹ قائم ہے اور بلوچستان پاکستان کا اہم صوبہ ہے۔ کسی کو وہاں مرضی کا قانون مسلط نہیں کرنے دینگے اور نہ ہی ابھی تک کسی نے کوئی جرات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالے وقتوں میں بلوچستان میں خوش حالی دیکھ رہا ہوں اور وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ امن وامان قائم ہوجائیگا اور یہاں کے عوام صرف اور صرف خوشحالی دیکھیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ براہمداغ بگٹی سے بلوچستان پر بات کرنے سے بہتر فورم پارلیمنٹ ہے ۔ یہاں عوامی مسائل کے حل کیلئے تجاویز لی اور دی جاتی ہیں ۔ کسی فرد واحد سے صوبے بارے کوئی مشورہ نہیں لیا جاسکتا
0 comments: on "بے قصور افراد کو رہا کردیا جائیگا،رحمن ملک"
Post a Comment