Saturday, December 12, 2009

شمعیں نہ جلاﺅ.... پھول نہ چڑھاﺅ....؟

بشری رحمن
لوگو! کیا کر رہے ہو....؟
شمعیں نہ جلاﺅ.... ملبے کے ڈھیر کے اوپر پھول مت چڑھاﺅ....
جو ہو سکے تو بوٹی بوٹی چن کے لاﺅ.... سانس سانس اکٹھی کرو.... قطرہ قطرہ خون جمع کرو اور چاند سے پیکر بنا دو۔ بیٹے بنا دو۔ مائیں بنا دو‘ باپ بنا دو‘ جگر گوشہ بنا دو.... جو شعلوں میں بھسم ہوئے۔ بم کا ایندھن بنے۔ تاریک راہوں میں مارے گئے .... جنہوں نے قیامت سے پہلے قیامت دیکھ لی۔ جو گھر سے خوشیاں خریدنے نکلے تھے۔ جو مسکراہٹیں خریدنے آئے تھے.... جنہوں نے اپنی ہتھیلیوں پر خواب سجائے تھے۔ جنہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ پلٹ کر گھر نہ جا سکیں گے اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے انتظار میں ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ بیویاں راہ دیکھتی رہیں گی۔ مائیں ہواﺅں کے پیچھے دوڑتی رہیں گی‘ بہنیں بھیا بھیا پکارتی رہیں گی۔ معصوم بچے ماں کو آوازیں دیتے رہیں گے.... ایک رات میں اتنے گھر برباد ہو گئے۔ اتنی مانگیں اجڑ گئیں.... اتنی گودیاں خالی ہو گئیں.... جن لوگوں نے پیسہ پیسہ جوڑ کے .... خواہشوں پر قدغن لگا کے اپنے اپنے کاروبار بڑھائے دکانیں سجائیں‘ بال بچوں کے لئے محنت کی .... ان کا کاروبار راکھ ہوا۔ ارادے جل گئے .... مسافتیں منہ کے بل گر گئیں....
ایک پوری بستی اجڑ گئی.... جسے مون مارکیٹ کہتے تھے۔ چاند کو گرہن لگ گیا۔
ہاں مارکیٹیں بستی کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بہت سی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں جو شہروں کو شہر بناتی ہیں اور خواہشوں کو زندہ رکھتی ہیں....
پل بھر میں سب جل گیا....
اف خدایا!
یہ پاکستان کس دوراہے پر آ گیا....
کن ہاتھوں میں آ گیا.... کن اعمال کی سزا ہے.... مگر معصوموں اور بے گناہوں کو کیوں.... انہیں کب سزا ملے گی جو سرکش ہوئے پھرتے ہیں۔ تیری دنیا کو بدصورت سے بدصورت ترین بنائے چلے جاتے ہیں۔ جو برائی کی طرح پھیل رہے ہیں اور دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ جو ہمارے شہر اجاڑ رہے ہیں ہماری گلیاں ویران کر رہے ہیں ہمارے گھروں میں ماتم برپا کئے ہوئے ہیں.... یہ ایسا سانحہ نہیں کہ جسے کوئی بھول جائے....
یا کسی کی آنکھ تر نہ ہو....
زندگی دنیا کے ہر خزانے سے قیمتی ہوتی ہے۔ زندگی کا کوئی مول کوئی عوضانہ کوئی مداوا نہیں ہوتا....
لوگو! کیا کر رہے ہو۔ شمعیں نہ جلاﺅ ‘ پھول نہ بکھیرو....
ملبے کے اندر سے ابھی تک سسکیوں کی آوازیں آ رہی ہیں.... بجلی کی تاروں پر ابھی تک کوئی دل اٹکا ہے دکان کی چھت پر کسی ماں کی آس لٹکی ہوئی ہے....
ہر وقت کا مارا دل کسی معجزے کا منتظر ہے.... کہ اچانک اس کا پیارا اس کی دلاری سامنے آ جائے .... دل گرفتہ مائیں بہنیں بیٹیاں.... ننگے سر ننگے پاﺅں علی الصبح جلی بھنی عمارتوں کو دیکھنے آتی ہیں .... دل میں ایک آس بھی لاتی ہیں .... ممکن ہے .... ہو سکتا ہے .... ادھر سے یا ادھر سے ان کا پیارا ہنستا ہوا آ کر ان سے لپٹ جائے.... وہ اسے سینے سے لگا لیں کبھی نہ جانے دیں .... خدایا.... خدایا ....
رائیگاں خون شہیداں نہیں دیکھا جاتا!
جب حادثہ ہو جاتا ہے۔ جب تباہی مچ جاتی ہے جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ تب سب آ جاتے ہیں.... ایسا کیوں ہوتا ہے .... ارباب اقتدار جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر لہو اور آگ کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ عندیے بھی ملتے رہتے ہیں۔ دھمکیاں اور ڈراوے بھی آتے رہتے ہیں۔ ذریعہ مواصلات و اطلاعات پہلے سے زیادہ ہیں۔ پھر یہ غفلت کیسے ہو گئی اگر دہشت گرد ہر حفاظتی تدبیر سے بچ کر نکل جانے کی تکنیک وضع کر لیتے ہیں تو ہمارے حفاظتی ادارے جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں چھان بین کے لئے نت نئے طریقے کیوں نہیں وضع کر سکتے۔ بڑی مارکیٹوں اور پبلک کی جگہوں پر ہمہ وقت گشتی محاظتی دستے کیوں نہیں ہوتے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس جاسوسی عملہ اندر کیوں نہیں چھوڑا جاتا ایک لوہے کا دروازہ ہر جگہ لگا کے پولیس مطمئن ہو جاتی ہے کیا تخریب کار اس دروازے کو پار کرنے کا طریقہ وضع نہیں کر سکتے....
کیا پاکستان خدانخواستہ پل صراط کے اوپر کھڑا رہے گا۔
چاروں طرف دوست نما دشمن ہیں جو پاکستان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے۔ کوئی شہر محفوظ نہیں۔ اسلام آباد جو ہمارا دارالخلافہ ہے۔ اس کے اندر اتنے بیریئر ہیں کہ جیل خانے کا احساس ہوتا ہے دشمن پاکستان کے اعصاب شل کرنا چاہتا ہے۔ بے گناہ شہریوں کو مار کے شہروں کے اندر مایوسی اور بددلی پھیلانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سماجی زندگی کو مفلوج کر کے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنانا چاہتا ہے۔ معیشت پر کاری ضرب لگا کر لوگوں میں وحشیانہ جذبات ابھارنا چاہتا ہے دشمن ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت بڑھ رہا ہے۔ ہماری حکومتوں کے پاس کیا کیا تدابیر ہیں ابھی سامنے نہیں آئیں۔ ہماری حکومت تو کھل کر دشمن کا نام بھی نہیں لے رہی۔
کم از کم تباہ حال لوگوں کی خبر تو لے ....
جتنی جلدی تباہی ہوتی ہے اتنی جلدی تلافی ممکن تو نہیں ہو سکتی مگر اتنی جلدی شروعات تو ہو سکتی ہے۔ میڈیا پر بہت سی شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں کمیٹیاں بن جائیں تو معاملات لٹک جاتے ہیں آج تک پاکستان میں کوئی معاملہ کمیٹیوں کے ذریعے حل نہیں ہوا.... جو نقصان ہوا وہ سب کو نظر آ رہا ہے۔ یہ اختیار چھوٹے بڑے دکانداروں اور چھابڑی فروشوں کو دیا جاتا تو وہ اپنے نقصان کا تخمینہ پیش کر دیتے۔ ایسی قیامت صغریٰ دیکھ لینے کے بعد کوئی بھی غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا۔ جب جانتا ہے کہ چشم زون سب جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ اصولاًٰ تو حکومت پنجاب کو اس مارکیٹ کی تعمیر نو فوراً شروع کر دینی چاہئے بلکہ اب یہ مارکیٹ جدید تعمیراتی اصولوں کے مطابق بنائی جائے۔ جس کا جو کلیم ہو اس کے پیش نظر انہیں دکانیں تعمیر کر کے دینی چاہئیں۔ اس کے بعد جو سرمایا ان کا ضائع ہوا۔ انہیں مہیا کیا جانا چاہئے۔ ہر صورت میں مارکیٹ کو دوبارہ تعمیر کرنا حکومت ہی کا فرض ہے جتنی تاخیر ہو گی زخم اتنے گہرے ہوں گے۔
ایک افسوسناک صورت حال جو سامنے آئی کہ ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں مناسب چادروں کا بندوبست نہیں تھا۔ خصوصاً عورتوں کی لاشیں ڈھانپے بغیر رکھ دی گئیں۔ کیا ہسپتال کی انتظامیہ اتنی گئی گزری ہے کہ چادروں کا بندوبست نہ کر سکی۔ یہ لوگ شہریوں کو اپیل کر دیتے تو وہاں چادروں اور کپڑوں کے ڈھیر لگ جاتے یہ درست ہے کہ حادثہ اچانک ہو تو اوسان خطا ہو جاتے ہیں مگر اتنے بڑے اور معروف ہسپتالی عملے کو ہر حادثے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ اتنا بڑا عملہ سارا سال تنخواہیں کھاتا ہے۔ کیا کسی میں بھی ایسی خدا خوفی نہیں تھی جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو بھی عزت سے دفنانا فرض ہے.... ہسپتالوں میں یہ غفلت کیوں برتی گئی.... ہر سال بعض ہسپتالوں میں ادویات کے غبن کی خبریں نکلتی رہتی ہیں ہسپتالوں کو زائد فنڈ دئیے جاتے ہیں .... پھر بھی ....
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
دکھ شمار کریں .... تو ان گنت نکل آئیں گے .... حادثے سنبھل جانے کا اشارہ دیتے ہیں ان حالات میں چوکس ہو جانے کی ضرورت ہے.... ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے.... اپنا اپنا فرض پہچاننے کی ضرورت ہے.... ورنہ.... پشاور‘ لاہور‘ ملتان اور ہر جگہ برہنہ لاشیں اور بکھرے ہوئے اعضاسسک سسک کر ہی کہتے رہیں گے....
شمعیں نہ جلاﺅ....
پھول نہ چڑھاﺅ.... احساس جگاﺅ‘ آواز بن جاﺅ ....
وگرنہ
جلا ہے جسم تو پھر دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب خاک جستجو کیا ہے

Digg Google Bookmarks reddit Mixx StumbleUpon Technorati Yahoo! Buzz DesignFloat Delicious BlinkList Furl

0 comments: on "شمعیں نہ جلاﺅ.... پھول نہ چڑھاﺅ....؟"

Post a Comment