نیویارک (نمائندہ خصوصی) لاس اینجلس ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سب سے مفید اتحادی اور افغان جنگ میں اسکے اہم شراکت دار سمجھے جانے والے صدر آصف زرداری ملک میں اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک رپورٹ میں اخبار نے کہا ہے کہ 15ماہ کے دور صدارت کے دوران صدر آصف زرداری کو فوج‘ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کے نقادوں کی طرف سے شدید دبائو نے کمزور کر دیا۔ اخبار نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر صدر زرداری خارجہ اور دفاعی امور پر کنٹرول میں ناکام ہو گئے تو اس صورت میں فوج کی جیت کا امکان ہے۔
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + آئی این پی) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ہے، القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستانی حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے تاہم اعتماد کا فقدان اس تعاون کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان‘ افغانستان سرحد پر قائم دہشت گردی کے مراکز سے دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن میں امریکن پاکستانی فائونڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار اور وسیع مفاد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے شدت پسندوں کیخلاف تو کارروائی کر رہی ہے تاہم افغانستان میں بیالیس ممالک کی افواج پر حملے کرنے والوں کیخلاف کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام ضروری ہے‘ پاکستان طویل مدت ترقی کا مستحق اور خواہشمند ہے ہم جمہوری اداروں کی مضبوطی اور انتہاپسند گروپوں کو شکست دینے کے لئے سکیورٹی بہتر بنانے میں حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ گروپ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء اور اس سے بھی آگے بڑھ کر خطرہ ہے۔ پاک فوج نے طالبان کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امریکہ نے بھی مدد میں اضافہ کیا ہے لیکن کچھ مزید دہشت گرد گروپوں کے پاکستان میں کیمپ موجود ہیں جہاں سے وہ عالمی سطح پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،دنیا کی 42 اقوام ان لوگوں کے خلاف افغانستان میں لڑ رہی ہیں۔ توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے بھی ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘ امریکہ اہم پاور سٹیشنوں کو بہتر بنانے، زرعی ٹیوب ویلوں کے قیام اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی غیر اعلانیہ سفیر ہونے کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دورکرنے اور انہیں قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار+ ایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری سے پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ملاقات کی‘ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں سرگودھا میں پکڑے جانے والے امریکی شہریوں کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے امریکی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کی ۔ذرائع کے مطابق صدر نے امریکی سفیر کو بتایا کہ امریکی شہریوں کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ امریکی سفیر نے صدر کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حال ہی میں راولپنڈی‘ لاہور اور ملتان میں ہونے والے خودکش دھماکوں پر اظہار افسوس کیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے واضح کیا کہ امریکی سفارتی عملے اور شہریوں کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں سفارتی دائرہ کار تک محدود رکھنا ہونگی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے ان سفارتی عملہ کی گاڑیوں کو روک کر چیکنگ کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سرگودھا میں امریکی شہریوں کی گرفتاری پر تشویش سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں ایڈمرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے ملاقات دوطرفہ امور، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون، جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن اور پاکستان امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا‘ ملاقات میں ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے امریکی سفیر کو بتایا کہ گرفتار امریکی باشندوں سے تحقیقاتی ادارے تفتیش کررہے ہیں جن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ صدر زرداری نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ قوانین کا احترام سب پر لازم ہے سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے سفارتی اہلکاروں کو چاہئے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں کیونکہ جو بھی انتظامات کئے گئے ہیں وہ ان کی بہتری اور سکیورٹی کی بناء پر کئے گئے ہیں۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے قوانین کااحترام کرتا ہے‘ سکیورٹی کے حوالے سے جو اقدامات کئے گئے ہیں اس حوالے سے پاکستان کے اداروں کی صلاحیت پر اسے مکمل اعتماد ہے۔ ملاقات میں دو طرفہ معاشی ، تجارتی ودفاعی تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مدد اور وسائل فراہم کرے ، قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زونز کے قیام کے وعدے پورے کئے جائیں جس پر امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہا ہے ہم تمام شعبوں میں پاکستان سے تعاون کو فروغ دیں گے ۔ بلوچستان کے عمائدین نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ ملاقات میں بلوچستان پیکج‘ این ایف سی ایوارڈ‘ صوبے کی ترقی‘ امن و امان اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچ عمائدین نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری اور جمہوری حکومت کیخلاف کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدر نے کہاکہ فیڈریشن کے فریم ورک میں صوبے میں مصالحت کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ملاقات کرنے والے وفد میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ‘ سردار محمد ایاز خان جوگیزئی ،اکرم شاہ‘ سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل اور ڈاکٹر بابر اعوان شامل تھے۔ صدر نے کہاکہ پیپلزپارٹی بلوچستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی کا ازالہ کر رہی ہے‘ حکومت وفاق اور اکائیوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔ بلوچستان میں چار نئے ڈیمز تعمیر ہونگے‘ بلوچ رہنما صوبے کے معاملات کے حل کے لئے آگے آئیں‘ صوبوں اور وفاق میں ہم آہنگی پیدا کرنا پیپلزپارٹی کی سب سے کامیابی ہے‘ ماضی میں نظرانداز کئے گئے صوبوں کے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔ اس موقع پر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر سے وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے اپنی نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ملاقات کی۔ صدر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ممکنہ اقدامات کریں۔ صدر نے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث مریضوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے کہاکہ مرض کی بروقت اور درست تشخیص کرکے بہت سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے یہ ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقدس پیشہ کے تقدس کو مدنظر رکھ کر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیں‘ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے وزارت صحت جامع حکمت عملی ترتیب دے۔