Latest Posts

Saturday, December 12, 2009

نیپیئر ٹیسٹ : نیوزی لینڈ کے 6 وکٹوں پر 346 رنز‘ پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل کرلی

نیپیئر (اے پی پی) ڈینیل ویٹوری کی شاندار بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کرکٹ میچ کی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل کر لی، ڈینیل ویٹوری 100 اور ڈیرل ٹفی 13 رنز پرکھیل رہے ہیں،پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا نے 4 کھلاڑیوں کو آ¶ٹ کیا،برینڈن میکولم 89 اور ٹم میکنٹوش 74 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بلے باز رہے، ڈینیل ویٹوری نے اپنے کیریئر کی پانچویں سینچری مکمل کر لی،دوسر ے روز ڈینیل ویٹوری اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میکولم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 176 قیمتی رنز بنے۔ ہفتہ کو جب نیوزی لینڈ نے پنی پہلی اننگز 47 رنز بغیر کسی نقصان پر دوبارہ شروع کی تو ٹم میکنٹوش 31 اور واٹلنگ 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔ دونوں کھلاڑیوں کے مابین پہلی وکٹ کی شراکت میں 60رنز بنے۔ واٹلنگ نیوزی لینڈ کے پہلے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 18 رنز بنا کر محمد آصف کی گیند پر عمر اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہو گئے۔گپٹل دوسرے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 13 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آ¶ٹ ہو گئے۔ روز ٹیلر کیویز ٹیم کے تیسرے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 21 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر محمد یوسف کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ اس موقع پر میکنٹوش 74 رنز بنانے کے بعد دانش کنیریا کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔اس وقت نیوزی لینڈ کا مجموعی سکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 136 رنز تھا۔ ڈینیئل فلائن پانچویں آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 5 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ اس کے بعد کپتان ڈینیل ویٹوری اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میکولم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 176 قیمتی رنز بنے،اس موقع پر میکولم 89 رنز بنا کر عمر گل کی گیند پر فیصل اقبال کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ یوں پاکستان کے خلاف اپنی پہلی سینچری مکمل کرنے میں ناکام رہے۔کپتان ڈینیئل ویٹوری نے ایک اینڈ پر عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پانچویں سینچری مکمل کی۔ دوسرے روز جب میچ ختم ہوا تو نیوزی لینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا لئے تھے اور اس پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل تھی۔ پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا نے 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ محمد آصف اور عمر گل نے ایک ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا
read more...

زرداری اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں: لاس اینجلس ٹائم

نیویارک (نمائندہ خصوصی) لاس اینجلس ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سب سے مفید اتحادی اور افغان جنگ میں اسکے اہم شراکت دار سمجھے جانے والے صدر آصف زرداری ملک میں اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک رپورٹ میں اخبار نے کہا ہے کہ 15ماہ کے دور صدارت کے دوران صدر آصف زرداری کو فوج‘ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کے نقادوں کی طرف سے شدید دبائو نے کمزور کر دیا۔ اخبار نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر صدر زرداری خارجہ اور دفاعی امور پر کنٹرول میں ناکام ہو گئے تو اس صورت میں فوج کی جیت کا امکان ہے۔

link...

read more...

شمعیں نہ جلاﺅ.... پھول نہ چڑھاﺅ....؟

بشری رحمن
لوگو! کیا کر رہے ہو....؟
شمعیں نہ جلاﺅ.... ملبے کے ڈھیر کے اوپر پھول مت چڑھاﺅ....
جو ہو سکے تو بوٹی بوٹی چن کے لاﺅ.... سانس سانس اکٹھی کرو.... قطرہ قطرہ خون جمع کرو اور چاند سے پیکر بنا دو۔ بیٹے بنا دو۔ مائیں بنا دو‘ باپ بنا دو‘ جگر گوشہ بنا دو.... جو شعلوں میں بھسم ہوئے۔ بم کا ایندھن بنے۔ تاریک راہوں میں مارے گئے .... جنہوں نے قیامت سے پہلے قیامت دیکھ لی۔ جو گھر سے خوشیاں خریدنے نکلے تھے۔ جو مسکراہٹیں خریدنے آئے تھے.... جنہوں نے اپنی ہتھیلیوں پر خواب سجائے تھے۔ جنہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ پلٹ کر گھر نہ جا سکیں گے اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے انتظار میں ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ بیویاں راہ دیکھتی رہیں گی۔ مائیں ہواﺅں کے پیچھے دوڑتی رہیں گی‘ بہنیں بھیا بھیا پکارتی رہیں گی۔ معصوم بچے ماں کو آوازیں دیتے رہیں گے.... ایک رات میں اتنے گھر برباد ہو گئے۔ اتنی مانگیں اجڑ گئیں.... اتنی گودیاں خالی ہو گئیں.... جن لوگوں نے پیسہ پیسہ جوڑ کے .... خواہشوں پر قدغن لگا کے اپنے اپنے کاروبار بڑھائے دکانیں سجائیں‘ بال بچوں کے لئے محنت کی .... ان کا کاروبار راکھ ہوا۔ ارادے جل گئے .... مسافتیں منہ کے بل گر گئیں....
ایک پوری بستی اجڑ گئی.... جسے مون مارکیٹ کہتے تھے۔ چاند کو گرہن لگ گیا۔
ہاں مارکیٹیں بستی کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بہت سی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں جو شہروں کو شہر بناتی ہیں اور خواہشوں کو زندہ رکھتی ہیں....
پل بھر میں سب جل گیا....
اف خدایا!
یہ پاکستان کس دوراہے پر آ گیا....
کن ہاتھوں میں آ گیا.... کن اعمال کی سزا ہے.... مگر معصوموں اور بے گناہوں کو کیوں.... انہیں کب سزا ملے گی جو سرکش ہوئے پھرتے ہیں۔ تیری دنیا کو بدصورت سے بدصورت ترین بنائے چلے جاتے ہیں۔ جو برائی کی طرح پھیل رہے ہیں اور دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ جو ہمارے شہر اجاڑ رہے ہیں ہماری گلیاں ویران کر رہے ہیں ہمارے گھروں میں ماتم برپا کئے ہوئے ہیں.... یہ ایسا سانحہ نہیں کہ جسے کوئی بھول جائے....
یا کسی کی آنکھ تر نہ ہو....
زندگی دنیا کے ہر خزانے سے قیمتی ہوتی ہے۔ زندگی کا کوئی مول کوئی عوضانہ کوئی مداوا نہیں ہوتا....
لوگو! کیا کر رہے ہو۔ شمعیں نہ جلاﺅ ‘ پھول نہ بکھیرو....
ملبے کے اندر سے ابھی تک سسکیوں کی آوازیں آ رہی ہیں.... بجلی کی تاروں پر ابھی تک کوئی دل اٹکا ہے دکان کی چھت پر کسی ماں کی آس لٹکی ہوئی ہے....
ہر وقت کا مارا دل کسی معجزے کا منتظر ہے.... کہ اچانک اس کا پیارا اس کی دلاری سامنے آ جائے .... دل گرفتہ مائیں بہنیں بیٹیاں.... ننگے سر ننگے پاﺅں علی الصبح جلی بھنی عمارتوں کو دیکھنے آتی ہیں .... دل میں ایک آس بھی لاتی ہیں .... ممکن ہے .... ہو سکتا ہے .... ادھر سے یا ادھر سے ان کا پیارا ہنستا ہوا آ کر ان سے لپٹ جائے.... وہ اسے سینے سے لگا لیں کبھی نہ جانے دیں .... خدایا.... خدایا ....
رائیگاں خون شہیداں نہیں دیکھا جاتا!
جب حادثہ ہو جاتا ہے۔ جب تباہی مچ جاتی ہے جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ تب سب آ جاتے ہیں.... ایسا کیوں ہوتا ہے .... ارباب اقتدار جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر لہو اور آگ کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ عندیے بھی ملتے رہتے ہیں۔ دھمکیاں اور ڈراوے بھی آتے رہتے ہیں۔ ذریعہ مواصلات و اطلاعات پہلے سے زیادہ ہیں۔ پھر یہ غفلت کیسے ہو گئی اگر دہشت گرد ہر حفاظتی تدبیر سے بچ کر نکل جانے کی تکنیک وضع کر لیتے ہیں تو ہمارے حفاظتی ادارے جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں چھان بین کے لئے نت نئے طریقے کیوں نہیں وضع کر سکتے۔ بڑی مارکیٹوں اور پبلک کی جگہوں پر ہمہ وقت گشتی محاظتی دستے کیوں نہیں ہوتے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس جاسوسی عملہ اندر کیوں نہیں چھوڑا جاتا ایک لوہے کا دروازہ ہر جگہ لگا کے پولیس مطمئن ہو جاتی ہے کیا تخریب کار اس دروازے کو پار کرنے کا طریقہ وضع نہیں کر سکتے....
کیا پاکستان خدانخواستہ پل صراط کے اوپر کھڑا رہے گا۔
چاروں طرف دوست نما دشمن ہیں جو پاکستان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے۔ کوئی شہر محفوظ نہیں۔ اسلام آباد جو ہمارا دارالخلافہ ہے۔ اس کے اندر اتنے بیریئر ہیں کہ جیل خانے کا احساس ہوتا ہے دشمن پاکستان کے اعصاب شل کرنا چاہتا ہے۔ بے گناہ شہریوں کو مار کے شہروں کے اندر مایوسی اور بددلی پھیلانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سماجی زندگی کو مفلوج کر کے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنانا چاہتا ہے۔ معیشت پر کاری ضرب لگا کر لوگوں میں وحشیانہ جذبات ابھارنا چاہتا ہے دشمن ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت بڑھ رہا ہے۔ ہماری حکومتوں کے پاس کیا کیا تدابیر ہیں ابھی سامنے نہیں آئیں۔ ہماری حکومت تو کھل کر دشمن کا نام بھی نہیں لے رہی۔
کم از کم تباہ حال لوگوں کی خبر تو لے ....
جتنی جلدی تباہی ہوتی ہے اتنی جلدی تلافی ممکن تو نہیں ہو سکتی مگر اتنی جلدی شروعات تو ہو سکتی ہے۔ میڈیا پر بہت سی شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں کمیٹیاں بن جائیں تو معاملات لٹک جاتے ہیں آج تک پاکستان میں کوئی معاملہ کمیٹیوں کے ذریعے حل نہیں ہوا.... جو نقصان ہوا وہ سب کو نظر آ رہا ہے۔ یہ اختیار چھوٹے بڑے دکانداروں اور چھابڑی فروشوں کو دیا جاتا تو وہ اپنے نقصان کا تخمینہ پیش کر دیتے۔ ایسی قیامت صغریٰ دیکھ لینے کے بعد کوئی بھی غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا۔ جب جانتا ہے کہ چشم زون سب جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ اصولاًٰ تو حکومت پنجاب کو اس مارکیٹ کی تعمیر نو فوراً شروع کر دینی چاہئے بلکہ اب یہ مارکیٹ جدید تعمیراتی اصولوں کے مطابق بنائی جائے۔ جس کا جو کلیم ہو اس کے پیش نظر انہیں دکانیں تعمیر کر کے دینی چاہئیں۔ اس کے بعد جو سرمایا ان کا ضائع ہوا۔ انہیں مہیا کیا جانا چاہئے۔ ہر صورت میں مارکیٹ کو دوبارہ تعمیر کرنا حکومت ہی کا فرض ہے جتنی تاخیر ہو گی زخم اتنے گہرے ہوں گے۔
ایک افسوسناک صورت حال جو سامنے آئی کہ ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں مناسب چادروں کا بندوبست نہیں تھا۔ خصوصاً عورتوں کی لاشیں ڈھانپے بغیر رکھ دی گئیں۔ کیا ہسپتال کی انتظامیہ اتنی گئی گزری ہے کہ چادروں کا بندوبست نہ کر سکی۔ یہ لوگ شہریوں کو اپیل کر دیتے تو وہاں چادروں اور کپڑوں کے ڈھیر لگ جاتے یہ درست ہے کہ حادثہ اچانک ہو تو اوسان خطا ہو جاتے ہیں مگر اتنے بڑے اور معروف ہسپتالی عملے کو ہر حادثے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ اتنا بڑا عملہ سارا سال تنخواہیں کھاتا ہے۔ کیا کسی میں بھی ایسی خدا خوفی نہیں تھی جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو بھی عزت سے دفنانا فرض ہے.... ہسپتالوں میں یہ غفلت کیوں برتی گئی.... ہر سال بعض ہسپتالوں میں ادویات کے غبن کی خبریں نکلتی رہتی ہیں ہسپتالوں کو زائد فنڈ دئیے جاتے ہیں .... پھر بھی ....
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
دکھ شمار کریں .... تو ان گنت نکل آئیں گے .... حادثے سنبھل جانے کا اشارہ دیتے ہیں ان حالات میں چوکس ہو جانے کی ضرورت ہے.... ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے.... اپنا اپنا فرض پہچاننے کی ضرورت ہے.... ورنہ.... پشاور‘ لاہور‘ ملتان اور ہر جگہ برہنہ لاشیں اور بکھرے ہوئے اعضاسسک سسک کر ہی کہتے رہیں گے....
شمعیں نہ جلاﺅ....
پھول نہ چڑھاﺅ.... احساس جگاﺅ‘ آواز بن جاﺅ ....
وگرنہ
جلا ہے جسم تو پھر دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب خاک جستجو کیا ہے
read more...

پاکستان میرے دل کے قریب ہے‘ جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے مدد جاری رکھیں گے: ہلیری

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + آئی این پی) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ہے، القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستانی حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے تاہم اعتماد کا فقدان اس تعاون کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان‘ افغانستان سرحد پر قائم دہشت گردی کے مراکز سے دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن میں امریکن پاکستانی فائونڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار اور وسیع مفاد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے شدت پسندوں کیخلاف تو کارروائی کر رہی ہے تاہم افغانستان میں بیالیس ممالک کی افواج پر حملے کرنے والوں کیخلاف کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام ضروری ہے‘ پاکستان طویل مدت ترقی کا مستحق اور خواہشمند ہے ہم جمہوری اداروں کی مضبوطی اور انتہاپسند گروپوں کو شکست دینے کے لئے سکیورٹی بہتر بنانے میں حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ گروپ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء اور اس سے بھی آگے بڑھ کر خطرہ ہے۔ پاک فوج نے طالبان کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امریکہ نے بھی مدد میں اضافہ کیا ہے لیکن کچھ مزید دہشت گرد گروپوں کے پاکستان میں کیمپ موجود ہیں جہاں سے وہ عالمی سطح پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،دنیا کی 42 اقوام ان لوگوں کے خلاف افغانستان میں لڑ رہی ہیں۔ توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے بھی ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘ امریکہ اہم پاور سٹیشنوں کو بہتر بنانے، زرعی ٹیوب ویلوں کے قیام اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی غیر اعلانیہ سفیر ہونے کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دورکرنے اور انہیں قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

link...

read more...

وفاقی کابینہ میں جلد تبدیلی متوقع‘ کائرہ کا رحمن ملک کی جگہ لینے کا امکان

اسلام آباد (مقصود ترمذی / دی نیشن رپورٹ) باخبر ذرائع کے مطابق چند روز میں وفاقی کابینہ میں تبدیلی متوقع ہے‘ اس بات کا امکان ہے کہ اس ردوبدل میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ‘ رحمن ملک کی جگہ وزیر داخلہ بنیں گے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ رحمن ملک کو کون سی وزارت دی جائے گی۔ ابھی ردوبدل میں تاخیر صورتحال کی سنگینی کے باعث کی گئی ہے۔ 3 وزرا کے محکموں میں ردوبدل سے اس کا تاہم آغاز ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ یہ سارا عمل اگلے ماہ مکمل ہو جائے گا۔ وزارت اطلاعات کے لئے حکومت شیری رحمن یا فوزیہ وہاب میں سے کسی کا ایک کا انتخاب کرے گی۔ کائرہ کی جگہ چودھری منظور کو گلگت بلتستان کا گورنر بنائے جانے کا امکان ہے‘ تاہم ان کے قریبی ذرائع کے مطابق چودھری منظور نے اس سے معذرت کر لی ہے۔ کوششوں کے باوجود کائرہ اور رحمن ملک سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
read more...

بلیک واٹر کے اہلکار بلوچستان کے شمسی ایئربیس پر بھی تعینات ہیں : امریکی اخبار

لندن (آن لائن +نمائندہ خصوصی) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بدنامِ زمانہ سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کے ساتھ خفیہ معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خفیہ معاہدے کے تحت بلیک واٹر کو پاکستان اور افغانستان میں ڈرون طیاروں میں میزائل لوڈ کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا تاہم سی آئی اے کے ڈائیریکٹر لیون پینٹانے رواں برس کے آغازمیں معاہدہ توڑ کر جاسوس طیاروں پر میزائل لوڈ کرنے کا کام امریکی ملازمین کے سپرد کردیا ہے جس کا اب انکشاف ہوا ہے۔ پاکستانی اور امریکی حکام اگرچہ بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں لیکن برطانوی اخبار نے ایک سابق امریکی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بلیک واٹر اپنی سرگرمیاں ایکس زی سروسز کے نئے نام کیساتھ بلوچستان میں شمسی ائیر بیس سے آپریٹ کرتی رہی ہے۔ اخبار کے مطابق بلیک واٹر کے اہلکار شمسی ائربیس کے اطراف گشت بھی کرتے ہیں تاہم بلیک واٹر کی طرف سے رپورٹ پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ نے بلیک واٹر کیساتھ کئے جانیوالے تمام معاہدوں پر نظرثانی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
read more...

امریکی شہری ڈی پورٹ کردیں‘ پیٹرسن ۔۔۔ پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے تحت فیصلہ ہوگا‘ زرداری

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار+ ایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری سے پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ملاقات کی‘ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں سرگودھا میں پکڑے جانے والے امریکی شہریوں کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے امریکی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کی ۔ذرائع کے مطابق صدر نے امریکی سفیر کو بتایا کہ امریکی شہریوں کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ امریکی سفیر نے صدر کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حال ہی میں راولپنڈی‘ لاہور اور ملتان میں ہونے والے خودکش دھماکوں پر اظہار افسوس کیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے واضح کیا کہ امریکی سفارتی عملے اور شہریوں کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں سفارتی دائرہ کار تک محدود رکھنا ہونگی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے ان سفارتی عملہ کی گاڑیوں کو روک کر چیکنگ کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سرگودھا میں امریکی شہریوں کی گرفتاری پر تشویش سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں ایڈمرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے ملاقات دوطرفہ امور، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون، جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن اور پاکستان امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا‘ ملاقات میں ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے امریکی سفیر کو بتایا کہ گرفتار امریکی باشندوں سے تحقیقاتی ادارے تفتیش کررہے ہیں جن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ صدر زرداری نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ قوانین کا احترام سب پر لازم ہے سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے سفارتی اہلکاروں کو چاہئے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں کیونکہ جو بھی انتظامات کئے گئے ہیں وہ ان کی بہتری اور سکیورٹی کی بناء پر کئے گئے ہیں۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے قوانین کااحترام کرتا ہے‘ سکیورٹی کے حوالے سے جو اقدامات کئے گئے ہیں اس حوالے سے پاکستان کے اداروں کی صلاحیت پر اسے مکمل اعتماد ہے۔ ملاقات میں دو طرفہ معاشی ، تجارتی ودفاعی تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مدد اور وسائل فراہم کرے ، قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زونز کے قیام کے وعدے پورے کئے جائیں جس پر امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہا ہے ہم تمام شعبوں میں پاکستان سے تعاون کو فروغ دیں گے ۔ بلوچستان کے عمائدین نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ ملاقات میں بلوچستان پیکج‘ این ایف سی ایوارڈ‘ صوبے کی ترقی‘ امن و امان اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچ عمائدین نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری اور جمہوری حکومت کیخلاف کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدر نے کہاکہ فیڈریشن کے فریم ورک میں صوبے میں مصالحت کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ملاقات کرنے والے وفد میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ‘ سردار محمد ایاز خان جوگیزئی ،اکرم شاہ‘ سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل اور ڈاکٹر بابر اعوان شامل تھے۔ صدر نے کہاکہ پیپلزپارٹی بلوچستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی کا ازالہ کر رہی ہے‘ حکومت وفاق اور اکائیوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔ بلوچستان میں چار نئے ڈیمز تعمیر ہونگے‘ بلوچ رہنما صوبے کے معاملات کے حل کے لئے آگے آئیں‘ صوبوں اور وفاق میں ہم آہنگی پیدا کرنا پیپلزپارٹی کی سب سے کامیابی ہے‘ ماضی میں نظرانداز کئے گئے صوبوں کے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔ اس موقع پر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر سے وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے اپنی نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ملاقات کی۔ صدر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ممکنہ اقدامات کریں۔ صدر نے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث مریضوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے کہاکہ مرض کی بروقت اور درست تشخیص کرکے بہت سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے یہ ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقدس پیشہ کے تقدس کو مدنظر رکھ کر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیں‘ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے وزارت صحت جامع حکمت عملی ترتیب دے۔

read more...