Saturday, December 12, 2009

نیپیئر ٹیسٹ : نیوزی لینڈ کے 6 وکٹوں پر 346 رنز‘ پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل کرلی

نیپیئر (اے پی پی) ڈینیل ویٹوری کی شاندار بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کرکٹ میچ کی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل کر لی، ڈینیل ویٹوری 100 اور ڈیرل ٹفی 13 رنز پرکھیل رہے ہیں،پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا نے 4 کھلاڑیوں کو آ¶ٹ کیا،برینڈن میکولم 89 اور ٹم میکنٹوش 74 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بلے باز رہے، ڈینیل ویٹوری نے اپنے کیریئر کی پانچویں سینچری مکمل کر لی،دوسر ے روز ڈینیل ویٹوری اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میکولم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 176 قیمتی رنز بنے۔ ہفتہ کو جب نیوزی لینڈ نے پنی پہلی اننگز 47 رنز بغیر کسی نقصان پر دوبارہ شروع کی تو ٹم میکنٹوش 31 اور واٹلنگ 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔ دونوں کھلاڑیوں کے مابین پہلی وکٹ کی شراکت میں 60رنز بنے۔ واٹلنگ نیوزی لینڈ کے پہلے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 18 رنز بنا کر محمد آصف کی گیند پر عمر اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہو گئے۔گپٹل دوسرے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 13 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آ¶ٹ ہو گئے۔ روز ٹیلر کیویز ٹیم کے تیسرے آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 21 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر محمد یوسف کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ اس موقع پر میکنٹوش 74 رنز بنانے کے بعد دانش کنیریا کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔اس وقت نیوزی لینڈ کا مجموعی سکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 136 رنز تھا۔ ڈینیئل فلائن پانچویں آ¶ٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 5 رنز بنا کر دانش کنیریا کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ اس کے بعد کپتان ڈینیل ویٹوری اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میکولم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 176 قیمتی رنز بنے،اس موقع پر میکولم 89 رنز بنا کر عمر گل کی گیند پر فیصل اقبال کے ہاتھوں کیچ آ¶ٹ ہوئے۔ یوں پاکستان کے خلاف اپنی پہلی سینچری مکمل کرنے میں ناکام رہے۔کپتان ڈینیئل ویٹوری نے ایک اینڈ پر عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پانچویں سینچری مکمل کی۔ دوسرے روز جب میچ ختم ہوا تو نیوزی لینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا لئے تھے اور اس پاکستان کے خلاف 123 رنز کی برتری حاصل تھی۔ پاکستان کی طرف سے دانش کنیریا نے 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ محمد آصف اور عمر گل نے ایک ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا
read more...

زرداری اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں: لاس اینجلس ٹائم

نیویارک (نمائندہ خصوصی) لاس اینجلس ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سب سے مفید اتحادی اور افغان جنگ میں اسکے اہم شراکت دار سمجھے جانے والے صدر آصف زرداری ملک میں اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک رپورٹ میں اخبار نے کہا ہے کہ 15ماہ کے دور صدارت کے دوران صدر آصف زرداری کو فوج‘ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کے نقادوں کی طرف سے شدید دبائو نے کمزور کر دیا۔ اخبار نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر صدر زرداری خارجہ اور دفاعی امور پر کنٹرول میں ناکام ہو گئے تو اس صورت میں فوج کی جیت کا امکان ہے۔

link...

read more...

شمعیں نہ جلاﺅ.... پھول نہ چڑھاﺅ....؟

بشری رحمن
لوگو! کیا کر رہے ہو....؟
شمعیں نہ جلاﺅ.... ملبے کے ڈھیر کے اوپر پھول مت چڑھاﺅ....
جو ہو سکے تو بوٹی بوٹی چن کے لاﺅ.... سانس سانس اکٹھی کرو.... قطرہ قطرہ خون جمع کرو اور چاند سے پیکر بنا دو۔ بیٹے بنا دو۔ مائیں بنا دو‘ باپ بنا دو‘ جگر گوشہ بنا دو.... جو شعلوں میں بھسم ہوئے۔ بم کا ایندھن بنے۔ تاریک راہوں میں مارے گئے .... جنہوں نے قیامت سے پہلے قیامت دیکھ لی۔ جو گھر سے خوشیاں خریدنے نکلے تھے۔ جو مسکراہٹیں خریدنے آئے تھے.... جنہوں نے اپنی ہتھیلیوں پر خواب سجائے تھے۔ جنہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ پلٹ کر گھر نہ جا سکیں گے اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے انتظار میں ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ بیویاں راہ دیکھتی رہیں گی۔ مائیں ہواﺅں کے پیچھے دوڑتی رہیں گی‘ بہنیں بھیا بھیا پکارتی رہیں گی۔ معصوم بچے ماں کو آوازیں دیتے رہیں گے.... ایک رات میں اتنے گھر برباد ہو گئے۔ اتنی مانگیں اجڑ گئیں.... اتنی گودیاں خالی ہو گئیں.... جن لوگوں نے پیسہ پیسہ جوڑ کے .... خواہشوں پر قدغن لگا کے اپنے اپنے کاروبار بڑھائے دکانیں سجائیں‘ بال بچوں کے لئے محنت کی .... ان کا کاروبار راکھ ہوا۔ ارادے جل گئے .... مسافتیں منہ کے بل گر گئیں....
ایک پوری بستی اجڑ گئی.... جسے مون مارکیٹ کہتے تھے۔ چاند کو گرہن لگ گیا۔
ہاں مارکیٹیں بستی کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بہت سی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں جو شہروں کو شہر بناتی ہیں اور خواہشوں کو زندہ رکھتی ہیں....
پل بھر میں سب جل گیا....
اف خدایا!
یہ پاکستان کس دوراہے پر آ گیا....
کن ہاتھوں میں آ گیا.... کن اعمال کی سزا ہے.... مگر معصوموں اور بے گناہوں کو کیوں.... انہیں کب سزا ملے گی جو سرکش ہوئے پھرتے ہیں۔ تیری دنیا کو بدصورت سے بدصورت ترین بنائے چلے جاتے ہیں۔ جو برائی کی طرح پھیل رہے ہیں اور دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ جو ہمارے شہر اجاڑ رہے ہیں ہماری گلیاں ویران کر رہے ہیں ہمارے گھروں میں ماتم برپا کئے ہوئے ہیں.... یہ ایسا سانحہ نہیں کہ جسے کوئی بھول جائے....
یا کسی کی آنکھ تر نہ ہو....
زندگی دنیا کے ہر خزانے سے قیمتی ہوتی ہے۔ زندگی کا کوئی مول کوئی عوضانہ کوئی مداوا نہیں ہوتا....
لوگو! کیا کر رہے ہو۔ شمعیں نہ جلاﺅ ‘ پھول نہ بکھیرو....
ملبے کے اندر سے ابھی تک سسکیوں کی آوازیں آ رہی ہیں.... بجلی کی تاروں پر ابھی تک کوئی دل اٹکا ہے دکان کی چھت پر کسی ماں کی آس لٹکی ہوئی ہے....
ہر وقت کا مارا دل کسی معجزے کا منتظر ہے.... کہ اچانک اس کا پیارا اس کی دلاری سامنے آ جائے .... دل گرفتہ مائیں بہنیں بیٹیاں.... ننگے سر ننگے پاﺅں علی الصبح جلی بھنی عمارتوں کو دیکھنے آتی ہیں .... دل میں ایک آس بھی لاتی ہیں .... ممکن ہے .... ہو سکتا ہے .... ادھر سے یا ادھر سے ان کا پیارا ہنستا ہوا آ کر ان سے لپٹ جائے.... وہ اسے سینے سے لگا لیں کبھی نہ جانے دیں .... خدایا.... خدایا ....
رائیگاں خون شہیداں نہیں دیکھا جاتا!
جب حادثہ ہو جاتا ہے۔ جب تباہی مچ جاتی ہے جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ تب سب آ جاتے ہیں.... ایسا کیوں ہوتا ہے .... ارباب اقتدار جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر لہو اور آگ کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ عندیے بھی ملتے رہتے ہیں۔ دھمکیاں اور ڈراوے بھی آتے رہتے ہیں۔ ذریعہ مواصلات و اطلاعات پہلے سے زیادہ ہیں۔ پھر یہ غفلت کیسے ہو گئی اگر دہشت گرد ہر حفاظتی تدبیر سے بچ کر نکل جانے کی تکنیک وضع کر لیتے ہیں تو ہمارے حفاظتی ادارے جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں چھان بین کے لئے نت نئے طریقے کیوں نہیں وضع کر سکتے۔ بڑی مارکیٹوں اور پبلک کی جگہوں پر ہمہ وقت گشتی محاظتی دستے کیوں نہیں ہوتے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس جاسوسی عملہ اندر کیوں نہیں چھوڑا جاتا ایک لوہے کا دروازہ ہر جگہ لگا کے پولیس مطمئن ہو جاتی ہے کیا تخریب کار اس دروازے کو پار کرنے کا طریقہ وضع نہیں کر سکتے....
کیا پاکستان خدانخواستہ پل صراط کے اوپر کھڑا رہے گا۔
چاروں طرف دوست نما دشمن ہیں جو پاکستان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے۔ کوئی شہر محفوظ نہیں۔ اسلام آباد جو ہمارا دارالخلافہ ہے۔ اس کے اندر اتنے بیریئر ہیں کہ جیل خانے کا احساس ہوتا ہے دشمن پاکستان کے اعصاب شل کرنا چاہتا ہے۔ بے گناہ شہریوں کو مار کے شہروں کے اندر مایوسی اور بددلی پھیلانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سماجی زندگی کو مفلوج کر کے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنانا چاہتا ہے۔ معیشت پر کاری ضرب لگا کر لوگوں میں وحشیانہ جذبات ابھارنا چاہتا ہے دشمن ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت بڑھ رہا ہے۔ ہماری حکومتوں کے پاس کیا کیا تدابیر ہیں ابھی سامنے نہیں آئیں۔ ہماری حکومت تو کھل کر دشمن کا نام بھی نہیں لے رہی۔
کم از کم تباہ حال لوگوں کی خبر تو لے ....
جتنی جلدی تباہی ہوتی ہے اتنی جلدی تلافی ممکن تو نہیں ہو سکتی مگر اتنی جلدی شروعات تو ہو سکتی ہے۔ میڈیا پر بہت سی شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں کمیٹیاں بن جائیں تو معاملات لٹک جاتے ہیں آج تک پاکستان میں کوئی معاملہ کمیٹیوں کے ذریعے حل نہیں ہوا.... جو نقصان ہوا وہ سب کو نظر آ رہا ہے۔ یہ اختیار چھوٹے بڑے دکانداروں اور چھابڑی فروشوں کو دیا جاتا تو وہ اپنے نقصان کا تخمینہ پیش کر دیتے۔ ایسی قیامت صغریٰ دیکھ لینے کے بعد کوئی بھی غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا۔ جب جانتا ہے کہ چشم زون سب جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ اصولاًٰ تو حکومت پنجاب کو اس مارکیٹ کی تعمیر نو فوراً شروع کر دینی چاہئے بلکہ اب یہ مارکیٹ جدید تعمیراتی اصولوں کے مطابق بنائی جائے۔ جس کا جو کلیم ہو اس کے پیش نظر انہیں دکانیں تعمیر کر کے دینی چاہئیں۔ اس کے بعد جو سرمایا ان کا ضائع ہوا۔ انہیں مہیا کیا جانا چاہئے۔ ہر صورت میں مارکیٹ کو دوبارہ تعمیر کرنا حکومت ہی کا فرض ہے جتنی تاخیر ہو گی زخم اتنے گہرے ہوں گے۔
ایک افسوسناک صورت حال جو سامنے آئی کہ ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں مناسب چادروں کا بندوبست نہیں تھا۔ خصوصاً عورتوں کی لاشیں ڈھانپے بغیر رکھ دی گئیں۔ کیا ہسپتال کی انتظامیہ اتنی گئی گزری ہے کہ چادروں کا بندوبست نہ کر سکی۔ یہ لوگ شہریوں کو اپیل کر دیتے تو وہاں چادروں اور کپڑوں کے ڈھیر لگ جاتے یہ درست ہے کہ حادثہ اچانک ہو تو اوسان خطا ہو جاتے ہیں مگر اتنے بڑے اور معروف ہسپتالی عملے کو ہر حادثے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ اتنا بڑا عملہ سارا سال تنخواہیں کھاتا ہے۔ کیا کسی میں بھی ایسی خدا خوفی نہیں تھی جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو بھی عزت سے دفنانا فرض ہے.... ہسپتالوں میں یہ غفلت کیوں برتی گئی.... ہر سال بعض ہسپتالوں میں ادویات کے غبن کی خبریں نکلتی رہتی ہیں ہسپتالوں کو زائد فنڈ دئیے جاتے ہیں .... پھر بھی ....
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
دکھ شمار کریں .... تو ان گنت نکل آئیں گے .... حادثے سنبھل جانے کا اشارہ دیتے ہیں ان حالات میں چوکس ہو جانے کی ضرورت ہے.... ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے.... اپنا اپنا فرض پہچاننے کی ضرورت ہے.... ورنہ.... پشاور‘ لاہور‘ ملتان اور ہر جگہ برہنہ لاشیں اور بکھرے ہوئے اعضاسسک سسک کر ہی کہتے رہیں گے....
شمعیں نہ جلاﺅ....
پھول نہ چڑھاﺅ.... احساس جگاﺅ‘ آواز بن جاﺅ ....
وگرنہ
جلا ہے جسم تو پھر دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب خاک جستجو کیا ہے
read more...

پاکستان میرے دل کے قریب ہے‘ جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے مدد جاری رکھیں گے: ہلیری

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + آئی این پی) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ہے، القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستانی حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے تاہم اعتماد کا فقدان اس تعاون کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان‘ افغانستان سرحد پر قائم دہشت گردی کے مراکز سے دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن میں امریکن پاکستانی فائونڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار اور وسیع مفاد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے شدت پسندوں کیخلاف تو کارروائی کر رہی ہے تاہم افغانستان میں بیالیس ممالک کی افواج پر حملے کرنے والوں کیخلاف کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام ضروری ہے‘ پاکستان طویل مدت ترقی کا مستحق اور خواہشمند ہے ہم جمہوری اداروں کی مضبوطی اور انتہاپسند گروپوں کو شکست دینے کے لئے سکیورٹی بہتر بنانے میں حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ گروپ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء اور اس سے بھی آگے بڑھ کر خطرہ ہے۔ پاک فوج نے طالبان کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امریکہ نے بھی مدد میں اضافہ کیا ہے لیکن کچھ مزید دہشت گرد گروپوں کے پاکستان میں کیمپ موجود ہیں جہاں سے وہ عالمی سطح پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،دنیا کی 42 اقوام ان لوگوں کے خلاف افغانستان میں لڑ رہی ہیں۔ توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے بھی ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘ امریکہ اہم پاور سٹیشنوں کو بہتر بنانے، زرعی ٹیوب ویلوں کے قیام اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی غیر اعلانیہ سفیر ہونے کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دورکرنے اور انہیں قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

link...

read more...

وفاقی کابینہ میں جلد تبدیلی متوقع‘ کائرہ کا رحمن ملک کی جگہ لینے کا امکان

اسلام آباد (مقصود ترمذی / دی نیشن رپورٹ) باخبر ذرائع کے مطابق چند روز میں وفاقی کابینہ میں تبدیلی متوقع ہے‘ اس بات کا امکان ہے کہ اس ردوبدل میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ‘ رحمن ملک کی جگہ وزیر داخلہ بنیں گے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ رحمن ملک کو کون سی وزارت دی جائے گی۔ ابھی ردوبدل میں تاخیر صورتحال کی سنگینی کے باعث کی گئی ہے۔ 3 وزرا کے محکموں میں ردوبدل سے اس کا تاہم آغاز ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ یہ سارا عمل اگلے ماہ مکمل ہو جائے گا۔ وزارت اطلاعات کے لئے حکومت شیری رحمن یا فوزیہ وہاب میں سے کسی کا ایک کا انتخاب کرے گی۔ کائرہ کی جگہ چودھری منظور کو گلگت بلتستان کا گورنر بنائے جانے کا امکان ہے‘ تاہم ان کے قریبی ذرائع کے مطابق چودھری منظور نے اس سے معذرت کر لی ہے۔ کوششوں کے باوجود کائرہ اور رحمن ملک سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
read more...

بلیک واٹر کے اہلکار بلوچستان کے شمسی ایئربیس پر بھی تعینات ہیں : امریکی اخبار

لندن (آن لائن +نمائندہ خصوصی) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بدنامِ زمانہ سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کے ساتھ خفیہ معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خفیہ معاہدے کے تحت بلیک واٹر کو پاکستان اور افغانستان میں ڈرون طیاروں میں میزائل لوڈ کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا تاہم سی آئی اے کے ڈائیریکٹر لیون پینٹانے رواں برس کے آغازمیں معاہدہ توڑ کر جاسوس طیاروں پر میزائل لوڈ کرنے کا کام امریکی ملازمین کے سپرد کردیا ہے جس کا اب انکشاف ہوا ہے۔ پاکستانی اور امریکی حکام اگرچہ بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں لیکن برطانوی اخبار نے ایک سابق امریکی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بلیک واٹر اپنی سرگرمیاں ایکس زی سروسز کے نئے نام کیساتھ بلوچستان میں شمسی ائیر بیس سے آپریٹ کرتی رہی ہے۔ اخبار کے مطابق بلیک واٹر کے اہلکار شمسی ائربیس کے اطراف گشت بھی کرتے ہیں تاہم بلیک واٹر کی طرف سے رپورٹ پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ نے بلیک واٹر کیساتھ کئے جانیوالے تمام معاہدوں پر نظرثانی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
read more...

امریکی شہری ڈی پورٹ کردیں‘ پیٹرسن ۔۔۔ پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے تحت فیصلہ ہوگا‘ زرداری

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار+ ایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری سے پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ملاقات کی‘ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں سرگودھا میں پکڑے جانے والے امریکی شہریوں کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے امریکی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کی ۔ذرائع کے مطابق صدر نے امریکی سفیر کو بتایا کہ امریکی شہریوں کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد ملکی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ امریکی سفیر نے صدر کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حال ہی میں راولپنڈی‘ لاہور اور ملتان میں ہونے والے خودکش دھماکوں پر اظہار افسوس کیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے واضح کیا کہ امریکی سفارتی عملے اور شہریوں کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں سفارتی دائرہ کار تک محدود رکھنا ہونگی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے ان سفارتی عملہ کی گاڑیوں کو روک کر چیکنگ کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سرگودھا میں امریکی شہریوں کی گرفتاری پر تشویش سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں ایڈمرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی سفیر نے ملاقات دوطرفہ امور، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون، جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن اور پاکستان امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا‘ ملاقات میں ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے امریکی سفیر کو بتایا کہ گرفتار امریکی باشندوں سے تحقیقاتی ادارے تفتیش کررہے ہیں جن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ صدر زرداری نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ قوانین کا احترام سب پر لازم ہے سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے سفارتی اہلکاروں کو چاہئے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں کیونکہ جو بھی انتظامات کئے گئے ہیں وہ ان کی بہتری اور سکیورٹی کی بناء پر کئے گئے ہیں۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے قوانین کااحترام کرتا ہے‘ سکیورٹی کے حوالے سے جو اقدامات کئے گئے ہیں اس حوالے سے پاکستان کے اداروں کی صلاحیت پر اسے مکمل اعتماد ہے۔ ملاقات میں دو طرفہ معاشی ، تجارتی ودفاعی تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مدد اور وسائل فراہم کرے ، قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زونز کے قیام کے وعدے پورے کئے جائیں جس پر امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہا ہے ہم تمام شعبوں میں پاکستان سے تعاون کو فروغ دیں گے ۔ بلوچستان کے عمائدین نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ ملاقات میں بلوچستان پیکج‘ این ایف سی ایوارڈ‘ صوبے کی ترقی‘ امن و امان اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچ عمائدین نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری اور جمہوری حکومت کیخلاف کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدر نے کہاکہ فیڈریشن کے فریم ورک میں صوبے میں مصالحت کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ملاقات کرنے والے وفد میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ‘ سردار محمد ایاز خان جوگیزئی ،اکرم شاہ‘ سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل اور ڈاکٹر بابر اعوان شامل تھے۔ صدر نے کہاکہ پیپلزپارٹی بلوچستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی کا ازالہ کر رہی ہے‘ حکومت وفاق اور اکائیوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔ بلوچستان میں چار نئے ڈیمز تعمیر ہونگے‘ بلوچ رہنما صوبے کے معاملات کے حل کے لئے آگے آئیں‘ صوبوں اور وفاق میں ہم آہنگی پیدا کرنا پیپلزپارٹی کی سب سے کامیابی ہے‘ ماضی میں نظرانداز کئے گئے صوبوں کے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔ اس موقع پر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر سے وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے اپنی نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ملاقات کی۔ صدر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ممکنہ اقدامات کریں۔ صدر نے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث مریضوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے کہاکہ مرض کی بروقت اور درست تشخیص کرکے بہت سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے یہ ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقدس پیشہ کے تقدس کو مدنظر رکھ کر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیں‘ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے وزارت صحت جامع حکمت عملی ترتیب دے۔

read more...

اب اورکزئی ایجنسی میں آپریشن زیرغور ہے‘ شدت پسند فرار ہو کر جہاں جائیں گے پیچھا کریں گے : وزیراعظم گیلانی


لاہور (نیوز رپورٹر + خبر نگار خصوصی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت موجود ہے۔ جنوبی وزیرستان آپریشن ختم ہو چکا ہے۔ اب اورکزئی ایجنسی میں آپریشن کی بات کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں عام معافی زیر غور ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی سی یو کے 8ویں کانووکیشن کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اتنا مضبوط بنایا جائیگا کہ کوئی آئین میں بگاڑ پیدا نہ کر سکے۔ 17ویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عمل جمہوری قوتیں ہی کرسکتی ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم سے اگلے فورم پر بات کرونگا۔ مالاکنڈ سوات آپریشن کے بعد وزیرستان آپریشن کامیاب ہوا ہے اور مالاکنڈ سمیت وزیرستان میں امن قائم ہو گیا ہے۔ بلوچستان میں 89 لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے راستے بلوچ لیڈروں کیلئے کھلے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں غیر ملکیوں سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ سکیورٹی اداروں کو بروقت معلومات دینے کیلئے ہدایات دی گئی ہیں۔ حکومت کی مفاہمتی پالیسیوں کے باعث این ایف سی کا اجراءہوا ہے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کو تیزی سے تنزلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر قوم کے متحد ہونے پر انہیں ہر محاذ پر شکست ہوئی۔ حکومت قیام امن کیلئے پرعزم ہے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کی ترقی اور روزگار کیلئے کام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا لبرل چہرہ دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ آج ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جن سے کوئی آمرانہ حکومت نہیں‘ صرف جمہوری حکومت ہی نبردآزما ہو سکتی ہے۔ آج وفاق صرف 1973ءکے آئین کی بدولت مستحکم ہے۔ 1973ءکے آئین کو ایک آمر نے مسخ کیا تھا۔ قوم جلد اسکی اصل شکل میں بحالی کی خوشخبری سنے گی۔ آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے باعث اب کوئی بلوچ نوجوان بیروزگار نہیں رہے گا۔ قبل ازیں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں پنجاب کابینہ میں توسیع کا فیصلہ‘ بجلی کے بحران پر جلد قابو پانے اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے پر اتفاق ہوا۔ وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کی کامیابی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کو وفاقی کابینہ میں شمولیت کی ایک بار پھر دعوت دی گئی۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے گذشتہ صبح 9 بجے ڈیفنس کے وائی بلاک میں یوسف رضا گیلانی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کے ساتھ ناشتہ کیا۔ وزیراعظم نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے حکومت پنجاب کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر پنجاب نے بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا ہے جو قابل ستائش ہے۔ محرم الحرام میں امن و امان یقینی بنایا جائے اور شہباز شریف جہاں ضروری سمجھیں رینجرز اور پاک فوج کی مدد حاصل کریں۔ وفاقی حکومت پنجاب حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرےگی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو وفاقی وزراءکے محکموں میں ردوبدل اور وفاقی سیکرٹریوں کی تبدیلی کے حوالے سے آگاہ کیا اور امید ظاہر کی کہ وزراءکے قلمدان تبدیل ہونے سے محکموں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو جن وفاقی وزراءسے شکایات ہیں ان کا ازالہ بھی کیا جائےگا۔ وفاق صوبوں کو زیادہ سے زیادہ مالی خودمختاری دینا چاہتا ہے تاکہ صوبے اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا متفقہ فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی قیادت ملک کے مسائل حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ پر وزیراعظم کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کےلئے پوری طرح تیار ہے تاہم بم دھماکوں اور شہداءکے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی اور سکیورٹی معاملات کے باعث پنجاب کے بجٹ پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث بھی پنجاب کی صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کےلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے اور کوشش ہے کہ جلد از جلد کرائے کے بجلی گھر اپنا کام شروع کردیں۔ دونوں رہنماﺅں نے پنجاب کابینہ میں توسیع پر بھی اتفاق کیا۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ہم این ایف سی ایوارڈ کی طرح پنجاب کابینہ میں توسیع کے معاملے پر بھی کھلے دل کا مظاہرہ کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا پنجاب میں اتحاد کامیابی سے آگے بڑھے اور پنجاب کابینہ میں توسیع کر کے موجودہ وزراءپر کام کے بوجھ کو کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کابینہ میں متفقہ فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی کو مزید وزارتیں بھی دی جائیں گی اور اس حوالے سے فیصلہ جلد کر لیا جائےگا۔ وزیراعظم نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے میاں محمد نوازشریف کے کردار کی تعریف کی ہے۔ شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ تمام فیڈریشن یونٹ کا ایک ہی فارمولے پر اتفاق رائے ہونا ایک شاندار کامیابی ہے۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کو جمہوریت کا تحفہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاستدان ملکی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے سے ملکی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا اور یہ قائداعظم ؒ کی خواب کے تعبیر ثابت ہو گا۔
کراچی (کلچرل رپورٹر/ آئی این پی) وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ وزیر ستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے کی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے، آپریشن کامیابی سے جاری ہے ، مسلح افواج نے دہشت گردوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے ، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ، دہشت گرد جہاں جائیں گے ان کا پیچھا کرینگے، حکومت دہشت گردی کے خلاف جہاد کر رہی ہے‘ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک جاری رہے گا، ہماری مفاہمت کی سیاست قائداعظمؒ کے اصولوں کے مطابق ہے، حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہے ۔گزشتہ روز ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خوش بخت شجاعت کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغن لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتے، کابینہ میں تبدیلی معمول کی کارروائی ہے اس پر حیران نہیں ہونا چاہئے ۔ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے جہاں پر ہر کام قانون کے مطابق ہو گا، سوات اورمالاکنڈ میں امن قائم ہو گیا ہے اور متاثرین کی گھروں کو قلیل وقت میں واپسی ایک ریکارڈ ہے جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ قومی معاملات پر مسلم لیگ (ن) سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے ملکی مفاد ، اداروں کی بالادستی کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ این این آئی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن جاری ہے‘ ضرورت پڑنے پر دیگر ایجنسیوں میں بھی آپریشن کیا جائے گا۔ پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم این آر او کا دفاع نہیں کریں گے۔ 27دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر لیاقت باغ میں یادگار کی بنیاد رکھی جائے گی‘ غیرملکیوں کی جانب سے سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے یر تلاشی لینے پر دھمکی دینے کی رپورٹ آئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


link...
read more...

قرضوں کی معافی کی بہتی گنگا!

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 60 ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کرانے والوں کی فہرست منظر عام پر آگئی ، 1985 ء سے 1999 ء تک 120 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے۔ جبکہ دیگر ارکان نے اس وقت نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک آف پاکستان سمیت تین بینکوں سے بارہ کروڑروپے کے قرضے خاموشی کے ساتھ معاف کرالئے، جب وہ برسراقتدار تھے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کی لائبریری کے سرکاری ریکارڈ میں کیا گیا ہے جس سے باضابطہ طور پر حقیقت اس کی تصدیق ہو گئی ہے کہ متعدد بااثر سیاستدانوں اور ان کے اہل خانہ نے متعدد بینکوں سے لئے گئے قرضے اپنی شوگر ملز  ٹیکسٹائل ملز اور دیگر صنعتی یونٹوں کے لئے لئے گئے قرضے خاموشی کے ساتھ معاف کرالئے۔ یہ بینک قرضے ماضی میں زیادہ تر سرکاری نیشنل بینک آف پاکستان اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی جانب سے معاف کئے گئے۔دی نیوز کو دستیاب سرکاری ریکارڈ سے جو نیشنل اسمبلی میں گزشتہ ایک دہائی کے حوالے سے پیش کیا گیا یہ لرزہ خیز انکشاف ہوتا ہے کہ 1985ء سے 2002ء کے دوران مجموعی طور پر30ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے جو بااثر سیاستدانوں اور طاقتور صنعتی گروپوں پرواجب الادا تھے۔ کچھ قرضے بینکاری قوانین کے مطابق درست طور پر معاف کرائے گئے جبکہ بڑی تعداد میں ملی بھگت تھی ۔یہ فہرست 1993ء میں اس وقت کی معین قریشی کی زیر قیادت نگراں حکومت نے مرتب کی تھی جبکہ 2007ء میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 2002ء سے2007ء کے دوران مشرف حکومت نے 54 ارب روپے معاف کئے اس طرح معاف کرائی جانے والی کل رقم 85ارب روپے بنتی ہے لیکن قومی اسمبلی میں حال ہی میں وقفہ سوالات میں بتایا گیا کہ معاف کرائے گئے قرضوں کی رقم پی پی پی کے حالیہ دور میں معاف کئے گئے قرضوں کو ملا کر ایک کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔1985ء سے2002ء کے دوران قرضوں کی معافی کی بہتی گنگامیں اشنان کرنے والے افراد اور خاندانوں کی سرکاری فہرست سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے۔
link...
read more...

وزیر اعظم کی وفاقی وزراء کو وارننگ!

وزیر اعظم سید یوسف رضاء جیلانی نے وفاقی وزراء کو حتمی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں بصورت دیگر کابینہ سے اخراج کے لئے تیار رہیں،وزیر اعظم کے مطابق جن وزراء اور وزرائے مملکت نے اپنے حلقوں میں عوام سے رابطہ منقطع کیا ہوا ہے انہیں کابینہ میں رہنے کا حق نہیں ہے، منسٹرشپ صرف گاڑیوں اور گھروں پر قومی پرچم لہرانے کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد عوام کی بھلائی

کے اقدامات کے ذریعے اپنی اور پارٹی کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے، کابینہ کے اندرونی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے کوبتایا ہے کہ کچھ وزراء کی کارکردگی نے وزیر اعظم کو بر افروختہ کردیا ہے، وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وزراء اپنے حلقوں کا دورہ کریں اور عوام سے رابطہ میں رہیں، صرف لاہور کراچی تک محدود نہ رکھیں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی جائیں، وزیر اعظم نے متنبہ کیا ہے کہ وہ خود بھی پیشگی اطلاعات کے بغیر مختلف ڈویژنوں اور وزارتوں کا دورہ کریں گے اور وزراء اور سرکاری حکام کی کارکردگی دیکھیں گے،کہ کون کس طرح اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

link...
read more...

مالیاتی ایوارڈ پر وفاق اور صوبوں میں اتفاق

وفاق اور چاروں صوبے ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ میں آبادی، غربت اور پسماندگی پر متفق ہوگئے ہیں، جس کے تحت صوبوں کو دیے جانے والے وسائل سے پنجاب کو 51.74، سندھ 24.55، سرحد 14.62 اور بلوچستان کو 9فیصد حصہ ملے گا۔ آبادی پر 82، پسماندگی پر10.3، محصولات پر 3 اور 12فیصد وسائل کی تقسیم غربت کی بنیاد پر ہوگی ۔ 19سال بعد یکم جولائی2010سے ایوارڈ پر عملدرآمد ہوگا۔ این ایف سی ایوارڈ پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی نے دستخط کیے۔وزیر خزانہ شوکت ترین، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور این ایف سی کے ممبران نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پوری قوم کو این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے کی خوش خبری سنائی۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے نئے این ایف سی ایوارڈ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تمام صوبوں نے بلوچستان کی ضروریات کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ بلوچستان کو نئے ایوارڈ کے تحت اگلے سال سے 83 ارب روپے دیئے جائینگے، چاہے وفاقی حکومت کے ریونیو میں کمی ہو پھر بھی بلوچستان کا پورا حصہ دیا جائیگا، پرانے فارمولے کے تحت وفاقی حکومت ریونیو کی وصولی پر پانچ فیصد وصولی کے اخراجات وصول کرتی تھی۔ نئے فارمولے میں آئین کے مطابق اب وفاق ٹیکس جمع کرنے کے اخراجات پانچ فیصد کی بجائے ایک فیصد وصول کریگا، چار فیصد صوبوں کو چلا جائیگا۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات 14.1 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کئے ہیں جبکہ وسائل 8.1 فیصد سے بڑھا کر 13.9 فیصد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ خدمات کے شعبہ پر سیلز ٹیکس وفاق کی بجائے اب صوبے وصول کریں گے اور یہ انہی کا حصہ ہو گاجبکہ دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کریگی ، یہ زیادہ اخراجات صوبہ سرحد میں ہو رہے ہیں جبکہ صوبوں نے بھی اپنے حصے کا ایک فیصد دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والے اخراجات کیلئے مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر اگلے سال کیلئے 56 فیصد جبکہ بقیہ چار سالوں کیلئے 57.5 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبے قابل تقسیم محاصل کے نئے کثیر الجہتی فارمولے پر بھی متفق ہو گئے ہیں اور آبادی کا حصہ 82 فیصد، پسماندگی و غربت 10.3 فیصد، ریونیو جنریشن 5 فیصد اور آبادی کی کثافت کا حصہ 2.7 فیصد ہو گا۔ اس نئے فارمولے کے بعد وفاقی قابل تقسیم محاصل میں پنجاب کا حصہ 51.79 فیصد، سندھ کا 24.55 فیصد، سرحد کا 14.62 فیصد اور بلوچستان کا 9.09 فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے اور یہ طے پایا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے پہلے سال بلوچستان کو 83 ارب روپے قابل تقسیم محاصل سے دیئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ نے اپنے وسائل سے 6 ارب روپے اضافی بلوچستان کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ستمبر سے اب تک این ایف سی کے چھ سیشن ہوئے، جس میں اس کے تمام پہلوؤں پر کھلے دل کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں صدر، وزیراعظم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وفاق کی طرف سے فیصلے کرنے کا مجھے اختیار دیا ، اس سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اعتماد بحال ہو گا اور صوبے مل کر ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کر سکیں گے۔
link...
read more...